عباس: سکیورٹی اداروں میں تبدیلیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے سیکیورٹی اداروں سے یاسر عرفات کے حمایتوں کو نکال دیا ہے۔ جن فلسطینی افسروں کو ان کے عہدوں سے ہٹایا گیا ہے ان میں فلسطینی سیکیورٹی ادروں کے سربراہ موسیٰ عرفات اور انٹیلیجینس کے سربراہ آمین الہندی شامل ہیں۔ موسی عرفات فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے قریبی عزیز ہیں اور ان پر الزام تھا کہ وہ شدت پسندوں کو قابو کرنے میں ناکام رہے ہیں۔الفتح پارٹی کے شدت پسند گروہ، العقصی شہدا برگیڈ کو موسی عرفات کی تعیناتی پر اعتراض رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر پر عالمی اور مقامی طور پر دباؤ تھا کہ وہ فلسطینی سیکیورٹی اداروں سے یاسر عرفات کے حمایتوں کو نکالے جو شدت پسندوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے اعلان کر رکھا ہے کہ سیکیورٹی اداروں میں کام کرنے والے ایسے اہلکار جو ساٹھ سال کی عمر پہنچ گئے ہیں ریٹائرمنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کو امید ہے کہ یاسر عرفات کے سینکڑوں حمایتی اس حکومتی اعلان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیکیورٹی کے اداروں کو چھوڑ دیں گے جن کی جگہ نئے لوگوں کو بھرتی کیا جا سکے گا۔ محمود عباس کی طرف سے سیکیورٹی کے ڈھانچے کی تعمیرنو سے امریکہ اور اسرائیل خوش ہوں گے۔ محمود عباس نے برگیڈیر جنرل سلیمان ہلیس کو موسی عرفات کی جگہ سیکیورٹی ادروں کا سربراہ مقرر کیا ہے۔ طارق ابو رجب کو فلسطینی انٹیلیجنس اور الاحسنی کو فلسطینی پولیس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ فلسطینی سیکیورٹی کے سابق سربراہ موسی عرفات اور انٹیلجینس کے سربراہ آمین الہندی کو وزیر اعظم کا خصوصی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||