آئین میں ترمیم کے ریفرنڈم پر ووٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مصر کے عوام آئین میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق ریفرنڈم پر ووٹ دے رہے ہیں جس کے تحت پہلی مرتبہ صدارتی انتخابات کی اجازت دی جائے گی۔ صدر حسن مبارک کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جمہوریت کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ لیکن خزبِ اختلاف کی جمعتیں اور ممنعہ تنظیم مسلم برادر ہڈ نے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ اس طرح حکومت کے امیدوار کو چیلنج کرنا عملاً کسی کے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آئین میں ترمیم پر یہ ریفرنڈم حکومت کاصرف ایک سیاسی حربہ ہے جس کا مقصد امریکہ کی جانب سے اصلاحات کے لئے پڑنے والے دباؤ کو کم کرنا ہے۔ نئی تجاویز کے تحت آزاد امیدواروں کو مصری پارلیمان کے 444ارکان میں سے کم از کم 65 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ 90 فیصد نشتیں حکمران نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس ہیں اس لئے کسی غیر سرکاری امیدوار کے لئے ان کی حمایت ملنا ممکن نہیں۔ ایک اور پابندی یہ بھی ہے کہ اپنا امیدوار میدان میں اتارنے کے لئے یہ ضروری ہے وہ سیاسی جماعت کم از کم پانچ سال پرانی ہو۔ موجودہ نظام کے تحت مسٹر مبارک چار مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں جہاں ملک کے شہری پالیمان کی جانب سے منتخب واحد صدارتی امیدوار کے حق یا مخالفت میں ووٹ دیتے ہیں۔ صدر مبارک نے ابھی یہ واضح نہیں کیا کہ کیا وہ ستمبر میں ہونے والے الیکشن میں پانچویں مرتبہ شرکت کریں گے تاہم توقع ہے کہ وہ ایسا کریں گے۔ قاہرہ میں بی بی سی نامہ نگار حبا صالح کا کہنا ہےایسا لگتا ہے کہ حکومت کو ریلیاں اور بائیکاٹ کرنے کے حزبِ اختلاف کے مطالبات سے کوئی تشویش نہیں ہے۔ حزبِ اختلاف کے حلیہ مظاہروں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا اور اس ووٹ کے کی مخالفت کرنے والے مسلم بردرہڈ کے 800 ارکان کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ریفرنڈم کے نتائج کا اعلان جمعرات کو کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||