جنگ کی شکست کا 60واں جشن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جب برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے آٹھ مئی انیس سو پینتالیس کو یورپ میں جنگ کے خاتمے اور نازی جرمنی کی شکست کا اعلان کیا، تو اس وقت تک دوسری عالمی جنگ میں چار کروڑ سے زیادہ لوگ مارے جاچکے تھے۔ برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل جنگ کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ’ کل آدھی رات کے بعد، دو بجکر اکتالیس منٹ پر جنرل آئزنہاور کے صدر دفتر میں، جرمنی کی اعلی کمان کے نمائندے جنرل جوڈل نے بلا شرط ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط کر دئے ہیں۔‘ اس اعلان کے ساٹھ سال بعد اگرچہ عام تاثر یہ ہے کہ اتحادی افواج کی بے پناہ طاقت کے سامنے جرمنی کو شکست ہونی ہی تھی، لیکن مورخین اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہےکہ ایک مرحلے پر برطانیہ اور اس وقت کی سوویت یونین دونوں ہی شکست کے قریب پہنچ چکے تھے۔ اس کے باوجود یہ جنگ کیسے جیتی گیی؟ شاید اس کا سب سے اچھا تجزیہ جواکم وان ربن ٹراپ نے کیا جو جنگ کے دوران جرمنی کے وزیر خارجہ تھے۔ ان کے خیال میں سوویت فوج کی طرف سے توقع سے کہیں زیادہ مزاحمت، بے پناہ امریکی اسلحہ اور اتحادی افواج کی فضائی قوت فیصلہ کن ثابت ہوئے یعنی دوسرے الفاظ میں روسیوں کا خون اور امریکیوں کا پسیہ اور ٹکنالوجی جرمنی کو لے ڈوبے۔ سوویت یونین کے گیارہ ملین یعنی ایک کروڑ دس لاکھ فوجی مارے گئے، جبکہ برطانیہ کو ساڑھے سات لاکھ اور امریکہ کو چار لاکھ جانوں کا نقصان ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ میں آج اتنے بڑے پیمانے پر تقریبات ہو رہی ہیں۔ جنگ میں فتح کا جشن اور ان فوجیوں کی عظیم قربانی کی یاد، تقریبات ان دونوں باتوں کا امتزاج ہیں۔ لندن میں جنگ کی یادگاری تقریب کی قیادت مسلح افواج کے بشپ ڈیوڈ کونرنے کی۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ’آج ہم ان تمام لوگوں کو یاد کر رہے ہیں، جنہوں نے دوسری عالمی جنگ میں آزادی انصاف اور امن کی خاطر اپنی جانیں قربان کیں۔‘ اس کے بعد شہزادہ چارلس نے شہیدوں کی یادگار پر پھول چڑھائے اور فوج کے بینڈ نے خراج عقیدت پیش کیا۔ امریکی صدر جارج بش نے ہالینڈ کے شہر ماسترخت کے نزدیک امریکی فوج کے ایک قبرستان میں منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کی۔ اس قبرستان میں آٹھ ہزار امریکی فوجی دفن ہیں۔ صدر بش نے اس موقع پر کہا ’آج سے ساٹھ سال پہلے ختم ہونے والی اس جنگ میں، جتنے بھی لوگوں نے حصہ لیا، سبھی نے قربانیاں دیں، اور بہت سو نےاپنی جانیں تک گنواں دیں۔ آج ہم آزادی کی عظیم فتح کی یاد منا رہے ہیں، اور سنگ مرمر کی یہ ہزاروں صلیبیں اور یہودیوں کے ستارہ داؤد اس بات کے عکاس ہیں کہ ہم نے اس فتح کی کتنی بڑی قیمت ادا کی ہے۔‘ انہوں نے کہا ’امریکہ کی جانب سے میں تہہ دل سے آپکا شکریہ ادا کرتا ہوں، کہ آپ نے عظیم قربانی دینے والے امیریکیوں کو اپنے بیٹے اور بیٹیوں کی طرح سمجھا۔‘ یورپ میں یہ واحد قبرستان ہے جہاں مقامی لوگوں نے امریکی فوجیوں کی قبریں اپنا لی ہیں اور ان کی خود دیکھ بھال کرتے ہیں۔ جرمنی میں اس موقع پر جمہوریت کا جشن منایا جارہا ہے، جس میں موسیقی اور تقریریں ہوں گی جبکہ جرمن پارلیمنٹ میں بھی ایک خصوصی تقریب ہو رہی ہے۔ فرانس میں صدر ژاک شیراک نے پیرس میں ایک تقریب میں شرکت کی جہاں انہوں نے بزرگ فوجیوں کو تمغوں سے نوازا اور اسکول بچوں سے ملے۔ دوسری طرف ماسکو میں روسی صدر ولامیر پوتن نے کہا ہے کہ جنگ عظیم دوئم میں روسیوں نے نجات دہندہ کا کردار ادا کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||