عراق: خودکش حملوں میں 6 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی پولیس کا کہنا ہے کہ ملک کے شمالی شہر تکریت میں واقع ایک پولیس اکیڈمی پر کیے گئے دو خودکش بم حملوں میں چھ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہو گئے ہیں۔ پہلا حملہ ایک خودکش بمبار نے گاڑی کو اکیڈمی کے صدر دروازے سے ٹکرا کر اس وقت کیا جب پولیس میں بھرتی ہونے والی نئے جوان تربیت کی غرض سے اردن جانے سے پہلے وہاں جمع ہو رہے تھے۔ اس واقعہ کے چند منٹ بعد ہی دوسرا خود کش حملہ کیا گیا جب امدادی کارکن پہلے حملے کی زد میں آنے والوں کو مدد فراہم کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ پولیس کے مطابق یہ دونوں حملے بیس منٹ کے وقفے سے کیے گئے۔ عراق میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو بارہا ایسے حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جنوری میں ہونے والے قومی انتخابات کے دوران ایسی کارروائیوں میں کسی حد تک کمی ہوئی تھی لیکن اب ملک بھر میں ان حملوں میں دوبارہ اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری طرف پولیس نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ بغداد کے شمال مشرقی شہر بعقوبہ میں پولیس اور مزاحمت کاروں کے درمیان ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار اور ایک شدت پسند زخمی ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ عراقی سکیورٹی اہلکاروں نے نہ صرف تربیت مکمل کر لی ہے بلکہ وہ پوری طرح مسلح بھی ہیں اور یوں یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی پولیس، فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کی مجموعی تعداد ملک میں موجود امریکی فوج سے زیادہ ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||