فلوجہ: امریکی دعویٰ مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی شہر فلوجہ کے شہریوں نے امریکہ کے اس دعوے کو غلط قرار دیا ہے کہ انہوں نے جس عمارت پر حملہ کیا تھا وہ القاعدہ کے حامیوں کے استعمال میں تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اس حملے میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہوئے تھے جن عورتیں اور بچے بھی شامل تھے۔ امریکی ترجمان جنرل مارک کیمٹ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج فلوجہ میں اس سیف ہاؤس کو نشانہ بنایا تھا جسے شدت پسند القاعدہ کے رہنما الزرقاوی کی سرپرستی میں اپنی کارروائیوں کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ الرزرقاوی ان عراقیوں میں شامل ہیں جنہیں امریکہ انتہائی مطلوب قرار دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسرا حملہ اس جگہ کیا گیا تھا جہاں ان شدت پسندوں کا اسلحہ رکھا ہوا تھا۔ تاہم شہریوں اور امریکہ ہی کے مقرر کردہ عراقی بریگیڈیر نوری عبود کا کہنا ہے کہ کہ انہیں موقع پر ایسی کوئی شہادت دکھائی نہیں دی جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ عمارت الزرقاوی یا القاعدہ کے لوگوں کے استعمال میں تھی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پہلے حملے کے بعد دوسرا حملہ امریکیوں نے جان بوجھ کر اس لیے کیا کہ پہلے حملے کا نشانہ بننے والوں کو بچانے کی کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔ فلوجہ میں مفاہمت کے بعد یہ پہلا بڑا حملہ تھا جس میں اس قدر ہلاکتیں ہوئیں۔ فلوجہ سے ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی میزائلوں کے حملے سے وہاں کافی زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اس سال اپریل میں یہاں امریکی فوج اور عراقیوں کے درمیان سخت لڑائی ہوئی تھی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اہم خفیہ اطلاع تھی کہ الزرقاوی کا نیٹ ورک اس مقام پر موجود تھے جسے نشانہ بنایا گیا۔ ہسپتال کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ فلوجہ میں امریکی کارروائی کا نشانہ بننے والوں میں عورتیں اور بچے شامل تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||