فلوجہ: جنرل لطیف نئے کمانڈر مقرر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کے ترجمان پیٹرک کیرال نے بی بی سی عرب سروس کو بتایا ہے کہ جنرل جسیم صالح کی جگہ، محمد لطیف کا تقرر طے پایا ہے۔ ترجمان کے مطابق جنرل صالح ڈپٹی کی حیثیت سے فرائض انجام دیں گے، جنہوں نے جمہ کے روز شہر پر کنٹرول حاصل کیا تھا۔ اتوار کے روز امریکی فوج کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے ہیں کہ جنرل صالح کی چھان بین کا عمل کامیاب رہے گا۔ فلوجہ میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ تقریباً چھ سو افراد ہلاک اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ امریکی محاصرہ سے متاثر ہوئے ہیں جو پانچ اپریل کو شروع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ پیر کے روز امریکی دستے اور باغیوں کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں ایک عراقی ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ جنرل صالح نے اپنے دستوں کو جمعہ کے روز فلوجہ میں امریکی فوج کی واپسی کے بعد تعینات کر دیا ہے۔ عبوری وزیرِ داخلہ ہوشیار زیباری کا کہنا ہے کہ عراقی حکومتی کونسل نے جنرل صالح کی نامزدگی کے لیے امریکہ سے رائے مانگی تھی۔ مسٹر زیباری نے ہسپانوی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ جنرل محمد لطیف کی نامزدگی پر کونسل کو کسی قسم کا اعتراض نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل محمد لطیف کو نامزد کرنے کا فیصلہ فلوجہ کے قبائلی رہنماؤں اور اعلیٰ امریکی فوجی افسران کے درمیان اتفاقِ رائے سے ہوا ہے۔ امریکی دفاعی ادارے پینٹاگن سے بی بی سی کے نامہ نگار نک چائلڈز کا کہنا ہے کہ کمانڈروں کے پاس جنرل صالح کو نامزد کیئے جانے کے علاوہ دوسری تجاویز بھی تھیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ پینٹاگن کے حکام ابھی بھی دوسری تجاویز پر غور کرنے کے لیے اصرار کر سکتے ہیں۔ ترجمان کے مطابق پینٹاگن نے کمانڈروں کو شہر فلوجہ میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے کے لیے مناسب وقت دیا ہے لیکن امریکی حکام تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ فلوجہ کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور ہم اس بات پر متفکر ہیں کہ یہ معاملہ کس طرح طے پایا ہے۔ عراقی وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ مسٹر لطیف نے سابق حکومت کے دور میں کئی سال جیل میں کاٹے ہیں۔ ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ شہر فلوجہ کے باشندوں میں ان کی حمایت کا عنصر کس قدر ہو سکتا ہے اس بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||