غیرملکیوں کی موجودگی کی تردید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلوجہ میں امن و امان کے لیے مقرر کیے جانے والے عراقی جنرل نے اس بات کی تردید کی ہے کہ فلوجہ میں کوئی غیر ملکی جنگجو موجود ہے۔ واضح رہے کہ امریکی مسلسل اس بات پر اصرار کرتے رہے ہیں کہ فلوجہ میں امریکیوں کے خلاف لڑنے والے ایسے عناصر موجود ہیں جن کا تعلق بیرونِ عراق سے ہے۔ ایک عراقی امریکی فوجی افسر نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی جنرل جن کا تعلق صدام حسین سے پایا جاتا ہے ان کا تعلق نئی عراقی فوج سے ہے جو شہر فلوجہ کی حفاظت پر مامور ہے۔ امریکی جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین، جنرل رچرڈ مائر کا کہنا ہے کہ عراقی جنرل جسیم محمد صالح کی کافی جانج پڑتال ہوئی ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کو فلوجہ میں حفاظتی دستے کی قیادت پر مامور کیا گیا ہوگا۔ جمہوری پارٹی میں ایک آفیسر کے طور پر کام کرنے والے جنرل جسیم محمد صالح نے ایک انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ قبائلی رہنماوؤں نے ان کے خیالات سے ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران جنرل جسیم محمد صالح جو کہ سابق صدر صدام حسین کی جمہوری پارٹی میں ایک آفیسر کی حیثیت رکھتے تھے ان کا کہنا ہے کہ قبائلی رہناوؤں نے ان کے خیالات سے ہم آہنگی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی فوج نے مسٹر صالح کو ہدایات دی ہیں کہ وہ فلوجہ میں امن قائم کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔ یاد رہے امریکی فوج سر کش باغیوں کی وجہ سے فلوجہ میں امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ امریکی فوجیوں نے تقریباً نوے فیصد شہر پر سے اپنا قبضہ چھوڑ دیا ہے۔ ایک عراقی حفاظتی اہلکار نے امریکی فوجیوں کی واپسی پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں رہائشیوں نے اپنے گھروں کی طرف لوٹنا شروع کر دیا ہے جن میں سے اکثر لوگ اس شدید لڑائی کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||