عراق: ’ کتوں سے ڈرانا پالیسی تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراقی جیل ابو غریب میں کتوں کے نگرانوں کا کہنا ہے کہ انہیں زیر حراست افراد کو کتوں سے ڈرانے کا حکم تھا۔ امریکی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے مطابق کتوں کے نگرانوں نے اس کا انکشاف ان بیانات میں کیا ہے جو انہوں نے جیل میں عراقی قیدیوں کے ساتھ کی جانے زیادتیوں کی تحقیقات کرنے والے فوجیوں کو دیے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والی رپورٹ میں کتوں کی دیکھ بھال کرنے والوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جیل میں چوٹی کے ملٹری انٹیلیجنس افسر بھی اس حکمتِ عملی کی توثیق کرتے تھے۔ اب تک امریکی محکمہ دفاع کے اہلکار یہ کہتے رہے ہیں کہ ابو غریب میں قیدیوں کے ساتھ کی جانے والی زیادتیاں اور خلاف ورزیاں محض ایک چھوٹے سے گروپ تک محدود تھیں۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ ان بیانات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جیل میں ہونے والی خلاف ورزیوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ زیادتیوں اور خلافورزیوں کی ایک نوعیت تو وہ تھی جس میں ملٹری پولیس کے ارکان قیدیوں کو جنسی توہین اور مار پٹائی کا نشانہ بناتے تھے اور دوسری نوعیت یہ تھی جس ملٹری انٹیلیجنس کے لوگ تحقیقات کے دوران قیدیوں کو کتوں سے خوفزدہ کرتے تھے۔ ملٹری پولیس پر الزام ہے کہ اس کے ارکان قیدیوں کی توہین کرتے، انہیں مارتے، برہنہ کرتے اور ان کی تصاویر بناتے تھے۔ اب تک ملٹری پولیس کے سات ارکان پر جیل قوانین کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگائے گئے ہیں تاہم ان میں کتوں سے ڈرائے جانے کے الزامات شامل نہیں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||