افغانستان میں دو برطانوی ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکام کا کہنا ہے کہ دو برطانوی اور ان کا ایک مترجم مشرقی افغانستان میں کیے گئے ایک حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والے یہ برطانوی باشندے آئندہ ستمبر میں ہونے والے انتخابات کے لیے اقوام متحدہ کی تیاریوں میں مدد کے لیے افغانستان میں تھے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں برطانوی باشندوں کی لاشیں اقوام متحدہ کے ایک طیارے میں جلال آباد لائی جا چکی ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ کابل کے مشرق میں دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع نورستان ریجن کے ضلع منڈول میں منگل کو ہوا۔ افغانستان کے کئی حصوں میں اس نوع کے جارحانہ حملوں کی وجہ سے انتخابات کی تیاریوں میں شدید رکاٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق افغان نائب وزیرِ داخلہ ہلال الدین ہلالی نے اس اطلاع کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے ’میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں ایک حملہ ہوا ہے جس میں کئی لوگ ملوث تھے اور اس کے نتیجے میں دو غیر ملکی اور ایک افغانی ہلاک ہو گئے۔‘ وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان لطف اللہ مشال نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ برطانوی باشندے ایک برطانوی سکیورٹی ادارے گلوبل رسک کے لیے کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہلاک ہونے والے برطانوی باشندوں کی لاشیں نورستان میں 28ویں ڈویژن کے فوجیوں نے برآمد کیں۔ مشال کا کہنا ہے کہ ’لاشیں ڈویژنل ہیڈ کوارٹر لائی جا چکی ہیں تا کہ انہیں بھیجنے کے انتظامات کیے جا سکیں۔، ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی موت کن حالات میں واقع ہوئی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||