افغانستان میں تین ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سرکاری طور پر بتایا گیا ہے کہ مشتبہ اسلامی شدت پسندوں نے قندھار میں دو امدادی کارکنوں اور ایک افغان فوجی کو ہلاک کر دیا ہے۔ پنجوائی ضلع میں پیش آنے والے اس واقعہ میں چھ فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد فرار ہوتے ہوئے دو حملہ آوروں کی ہلاکت کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ پولیس کے ڈپٹی چیف جنرل سلیم خان نے بتایا کہ گاڑی میں سوار حملہ آوروں نے پہلے پولیس تھانے پر گولیاں برسائیں اور اس کے بعد قریب ہی ایک امدادی ادارے کے دفتر پر فائرنگ کر دی۔ جنرل سلیم نے بتایا کہ اُن کے سپاہیوں نے حملہ آوروں کا پیچھا کر کے ان میں سے دو کو ہلاک کر دیا ہے۔ گزشہ سال اگست کے بعد سے افغانستان میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے چھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس واقعہ سے ایک روز پہلے ہی ملک کے صدر حامد کرزئی نے قندھار کے دورے کے دوران طالبان کو افغانستان کی تعمیر نو میں حصہ لینے کی دعوت دی تھی۔ واضح رہے کہ قندھار ماضی قریب میں مبینہ طور پر طالبان کے حملوں کا نشانہ رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||