BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 April, 2004, 02:35 GMT 07:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان میں سات لوگ ہلاک
پولیس بکتیہ میں تلاشی لے رہی ہے
پولیس نے علاقے کو پورطرح نظر بند کر دیا ہے
جنوب مشرقی افغانستان میں سات لوگوں کی ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں جن میں حکومتی افسران بھی شامل ہیں۔

مقامی حفاظتی حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بہت ہی منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا ہے جس میں ایک عورت اور بچے کے علاوہ سب کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ ہلاکتیں پاکستان بارڈر کے نزدیک بکتیہ میں اس وقت ہوئیں جب ان کی کار کو روکا گیا۔

اس ضلع میں پچھلے سال سے کافی دہشت گردی کی وارداتیں ہورہی ہیں اور کابل کی انتظامیہ اس بارے میں کافی پریشان ہے۔

علاقائی فوجی کمانڈر، محمد حسین کا کہنا ہے کہ سات لوگ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جن میں سے تین حکومتی حکام تھے۔

انھوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ طالبان کے مشتبہ ارکان نے ان کی کار کو صوبہ بکتیہ کے ضلع برمال میں روکا اور جب گن مین نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ صدر حامد کرزئی کے حمائیتی ہیں، جب ان کو جواب ہاں میں ملا تو انھوں نے ایک عورت کو چھوڑ کر باقی سب کو ہلاک کر دیا۔

بکتیہ کے گورنر نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ ان کا برمل پر کنٹرول نہیں ہے۔ اس علاقے کو پوری طرح نظربند کر دیا ہے جہاں پچھلے کئی دنوں سے فائرنگ کی اطلاعات مل رہی تھیں۔

حفاظتی حکام کا کہنا ہے کہ طالبان کو علاقے کی پوری حمایت حاصل ہے اور وہ پاکستان کے علاقہ وزیرستان میں آنے جانے کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔ جبکہ جنوبی وزیرستان میں پاکستانی افواج اور القاعدہ کے گروہ کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

اس سے پہلے بدھ کے روز ایک بم دھماکہ میں ایک اعلی پولیس اہلکار اور تین افغان فوجی قندھار میں زخمی ہوئے تھے۔ یہ بم دھماکہ امریکی ملٹری بیس کے نزدیک ہوا تھا اور اعلی حکام طالبان پر الزام لگا رہے ہیں۔ جبکہ عام لوگوں اور ایک اسلامی گروہ ’حزبِ اسلامی گلبدین‘ کا بھی یہی کہنا ہے کہ طالبان نے صدر حامد کرزئی اور امریکی حکومت کے خلاف جہاد کا آغاز کر دیا ہے اور انھوں کے اپنے حمایتوں کو عراقیوں اور امریکی افواج کے درمیان ہونے والی مزاحمتوں کی مثال دی ہے۔

منگل کے روز ’کابل میں بین الاقوامی امن منصوبے‘ کے حکام نے کہا ہے کہ انھوں نے ایک گروہ کے کمانڈر کو گرفتار کرانے میں مدد کی ہے۔ اس بارے میں انھوں نے مزید معلومات دینے سے انکار کیا ہے۔

اس کے علاوہ اس بات کا بھی خطرہ پایا جاتا ہے کہ یہ حملے ستمبر کو ہونے والے الیکشن کے وقت تک مزید بڑھ جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد