افغانستان کا اصل حاکم کون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سترہ اپریل کو امریکی روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ نے ایک سرخی جمائی: ’افغانستان میں زمام اقتدار امریکی ایلچی کے ہاتھ‘۔ اس کے نیچے رپورٹ کا آغاز افغان صدرحامد کرزئی اور کابل میں امریکی سفیر زلمے خلیل زاد کی گفتگو سے ہوتا ہے۔ کرزئی اپنے دفتر میں خلیل زاد سے پوچھتے ہیں: ’تو آج ہماری کیا مصروفیات ہیں‘ خلیل زاد جواب میں کرزئی کو بتاتے ہیں کہ جشںِ نوروز کے موقع پر وہ ایک تقریب میں شرکت کریں گے جہاں وہ کابل کو سر سبز و شاداب بنانے کی مہم کا آغاز کرتے ہوئے نیا پودا لگائیں گے۔ کرزئی، خلیل زاد سے کہتے ہیں کہ وہ فی البدیہہ خطاب کرنا چاہتے ہیں۔ خلیل زاد سفارتکار سے زیادہ اتالیق کا لہجہ اپناتے ہوئے جواب دیتے ہیں: ’اچھا ہے کہ آپ کے پاس لکھی لکھائی تقریر نہیں۔ آپ اس کے بغیر زیادہ اچھا بولتے ہیں۔‘ رپورٹ میں آگے چل کر خلیل زاد اور کرزئی کی جن سرکاری مصروفیات کا بیان ہے ان سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ افغانستان کے کاروبار حکومت اور امور مملکت کی باگ امریکی سفیر زلمے خلیل زاد ہی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ رپورٹ پڑھتے وقت میرے سامنے افغان تاریخ کے اوراق پلٹتے چلے گئے۔ تقریباً دو سو برس قبل افغانستان کے ایک جانب زار روس کی حکومت ہے، مشرق میں پنجاب میں مہاراجہ رنجیت سنگھ اپنا سکّہ جما چکے ہیں جبکہ ہندوستان کے بیشتر علاقوں اور ریاستوں میں کمپنی بہادر یا برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی اپنی عملداری قائم کر چکی ہے۔ سال اٹھارہ سو بارہ، افغانستان، محلاتی سازشوں کے نتیجہ میں امیر کابل شاہ شجاع اپنے حریف دوست محمد کے ہاتھوں تخت سے محروم ہوکر کشمیر میں قید ہوجاتے ہیں۔ رنجیت سنگھ، شاہ شجاع کو رہائی دلوا کر انہیں کابل کے تخت پر پھر سے بیٹھانے کا لالچ دیتے ہیں اور دریائے سندھ کے مغرب میں پشاور سمیت سکھوں کے زیر قبضہ دوسرے افغان علاقوں سے دستبردار ہونے پر آمادہ کر لیتے ہیں۔ کابل کے تخت پر پھر سے متمکن ہونے کے لالچ میں شاہ شجاع کوہ نور ہیرا بھی مہاراجہ کے حوالے کر دیتے ہیں۔ (یہ ہیرا بعد میں تاج برطانیہ کی زینت بنتا ہے۔ کوہ نور اب لندن میں شاہی جواہرات کے عجائب گھر میں جگمگا رہا ہے۔) ادھر کلکتے اور شملہ میں جو انگریزوں کے موسمی پایۂ تخت تھے یہ جان کر کھلبلی مچ جاتی ہے کہ افغانستان پر روسی اثر بڑھ رہا ہے۔ کمپنی بہادر کے چیف سیکرٹری سر ویلیم میکناٹن، گورنر جنرل لارڈ آکلینڈ کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہتے ہیں کہ افغانستان پر چڑھائی کرکے شاہ شجاع کو تخت پر بحال کرنا ہی کمپنی بہادر کے مفاد میں ہے۔ یہ کارروائی رنجیت سنگھ کی تائید و حمایت کے بغیر ممکن نہ تھی۔ جولائی سن اٹھارہ سو انتالیس میں انگریز اور ہندوستانی فوج کی مدد سے شاہ شجاع، ’شجاع المک‘ کے لقب سے تخت کابل پر بڑی شان و شوکت سے جلوا افروز ہوتے ہیں جبکہ سر ویلیم میکناٹن انگریزوں کے خصوصی ایلچی کے طور پر دربار میں بادشاہ کے پہلو میں نشست پاتے ہیں۔ کتاب soldier sahibs کے مصنف چارلس ایلن لکھتے ہیں کہ شاہ شجاع اصل میں ایک کٹھ پتلی حکمران تھے۔ افغانوں میں ان کے نامقبول اقتدار کو برقرار رکھنے کے لئے انگریز فوج کابل میں موجود رہی۔ ادھر دوست محمد نے گوریلا جنگ شروع کردی لیکن پھر ہتھیار ڈال کر ہندوستان میں جلاوطنی قبول کر لی۔ تاہم ان کے بڑے بیٹے اکبر خان فرار ہوکر پہاڑوں میں روپوش ہوگئے۔ پھر یوں ہوا کے ایک طرف تو میکناٹن نے دو میں سے ایک انگریز بریگیڈ کو واپس ہندوستان بھیج دیا اور دوسری جانب درہ خیبر کے قبائل کو وہ خطیر وظیفہ روک دیا جو انگریز انہیں اپنا حامی رکھنے کے لئے دیتے تھے (موجودہ دور میں اس وظیفہ کی مالیت دو لاکھ چالیس ہزار پاؤنڈ سالانہ بنتی ہے)۔ یہاں سے شروعات ہوئیں جو آگے چل کر اس تباہی کا سبب بنیں جو برطانوی ہندوستان کی تاریخ میں سب سے بڑی فوجی شکست مانی جاتی ہے۔ نومبر اٹھارہ سو اکتالیس میں افغانوں نے کابل میں برطانوی چھاؤنی پر حملہ کر دیا، میکناٹن، دوست محمد کے بیٹے اکبر خان کے ہاتھوں مارے گئے۔ تقریباً سولہ ہزار فوجیوں اور نیم فوجیوں میں سے صرف ڈاکٹر برائڈن زخمی حالت میں یہ خونیں داستان سنانے جلال آباد پہنچ سکے۔ اس معرکہ کے خیالی مناظر تو تاریخ کی کتابوں میں کہیں محفوظ ہوں گے تاہم ایک منظم لشکر اور قبائلی جنگ کی جھلکیاں انگلینڈ کے بادشاہ کے خلاف سکالینڈ میں ہونے والی بغاوت پر بننے والی فلم braveheart میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ لگتا ہے کہ اس صدی کے آغاز پر افغانستان کی تاریخ کروٹ لے کر پھر سے دو صدی پیچھے چلی گئی ہے۔ زلمے خلیل زاد نسلاً پختون ہیں اور ان کی جائے پیدائش مزار شریف ہے تاہم ان کی شہریت امریکی ہے۔ روسی افواج کے خلاف جنگ کے دوران گلبدین حکمت یار سمیت دیگر مجاہدین سے ان کے قریبی تعلقات تھے۔ بعد میں طالبان دور اقتدار میں بھی جب وسطی ایشیا سے تیل کی پائپ لائن پر مذاکرات شروع ہوئے تو وہ طالبان کے حامی رہے۔ حامد کرزئی ابتدا میں طالبان کے حامی تھے تاہم بعد میں بعض اختلافات کی وجہ سے وہ پاکستان میں رہنے لگے۔ پھر اچانک پتہ چلا کہ افغانستان میں بنیاد پرستوں کا اثر ونفوذ بڑھتا جا رہا ہے۔ نیویارک پر حملے ہوتے ہیں۔ طالبان حکومت، القاعدہ کو پناہ دینے کی وجہ سے قابل سرزنش ٹھہرتی ہے۔ امریکہ افغانستان پر حملہ کرتا ہے۔ پاکستان میں مشرف حکومت امریکہ کا ساتھ دیتی ہے۔ حامد کرزئی اب افغانستان کے صدر ہیں، ان کا محافظ دستہ امریکی فوج پر مشتمل ہے، زلمے خلیل زاد امریکی سفیر ہیں اور صدر کرزئی اپنا روزنامچہ ان کے مشورہ سے ترتیب دیتے ہیں۔ ڈالروں کی ریل پیل ہے، افغانستان بنیادی طور پر قبائلی معاشرہ ہے جہاں بااثر افراد ہر محصول میں حصہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔ طالبان رہنما ملا عمر اپنے لاتعداد ساتھیوں سمیت روپوش ہیں اور وقتاً فوقتاً ان کی کارروائیوں کی خبریں آتی رہتی ہیں۔ ادھر پاکستان کے قبائلی علاقوں میں قیام پاکستان کے بعد پہلی بار پاکستانی فوج داخل ہوئی۔ روایت کے برعکس افغان حکومت کی طرف سے کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ اس سے پہلے جب بھی پاکستان نے ان قبائل میں اپنا اثر بڑھانے کی کوشش کی افغانستان کی طرف سے اس پر اعتراضات کیے گئے اور افغانستان نے پاکستان کے کئی ’باغی‘ قبائلی راہنماؤں کو پناہ بھی دی۔ دونوں ملکوں کے مابین ڈیورینڈ لائن ہمیشہ باعث نزع رہی، یہاں تک کہ پاکستان نواز طالبان بھی اس کی حیثیت کو ماننے پر آمادہ نہیں تھے۔ انیسویں صدی کا پہلا نصف: افغانستان، شاہ شجاع، دوست محمد، اکبر خان، روسی اثر، ہندوستان، لارڈ آکلینڈ، سر میکناٹن، افغانستان کے مشرق میں رنجیت سنگھ حکومت۔ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی: افغانستان، مجاہدین، طالبان، ’دہشتگردی‘ کا اثر، ملا عمر، حامد کرزئی، امریکی صدر بش، سفیر زلمے خلیل زاد، افغانستان کے مشرق میں جنرل مشرف کی حکومت۔ غرض تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ تاریخ کا دھارا اپنے راستے پر چلتا دکھائی دے رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||