BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 April, 2004, 11:03 GMT 16:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مکمل خود مختاری نہیں‘
کالن پاول
’امریکی فوج کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں رہنا ضروری ہے‘
امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ یکم جولائی سے عراق میں اقتدار سنبھالنے والی حکومت کو اپنے کچھ اختیارات ’اتحادیوں‘ کو تفویض کر نے پڑیں گے۔

امریکی وزیر خارجہ کالن پاول نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ عراق کی نئی حکومت مکمل طور پر خود مختار ہوگی لیکن اسے اپنے کچھ اختیارات میں شراکت کرنے پڑے گی تاکہ امریکی فوج کی قیادت اس کے اپنے پاس رہے۔

عراقیوں کی خودمختاری
 ’یہ خود مختاری ہی ہوگی لیکن اِنہیں ہمیں کچھ خود مختاری کا اختیار دینا ہوگا جو ہم ان کی طرف سے ان کی اجازت کے ساتھ استعمال کریں گے
کالن پاول
انہوں نے کہا کہ ’ مجھے اُمید ہے کہ وہ اس بات کو سمجھیں گے موثر ہونے کے لئے کسی حد تک خودمختاری میں شراکت کرنی ہوگی‘۔

کالن پاول نے کہا ہے کہ ’یہ خود مختاری ہی ہوگی لیکن اِنہیں ہمیں کچھ خود مختاری کا اختیار دینا ہوگا جو ہم ان کی طرف سے ان کی اجازت کے ساتھ استعمال کریں گے‘۔

کالن پاول کے اِس بیان سے قبل فالوجہ میں عراقی جنگجؤوں اور امریکی فوجیوں کے درمیان زبردست لڑائی دیکھنے میں آئی جس دوران امریکہ کے مطابق کم از کم ایک امریکی فوجی ہلاک اور آٹھ زخمی ہو ئے۔

فلوجہ کے علاوہ کوفہ اور نجف سے بھی تازہ لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں جبکہ بغداد میں ایک دھماکے میں دو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

امریکہ جھڑپوں کی نئی لہر کے باوجود اس بات کا اصرار کر رہا ہے کہ وہ پروگرام کے تحت تیس جون کو اقتدار عراق میں ایک عبوری حکومت کے حوالے کر دے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد