رنتیسی کی تدفین، نئے رہنما کا انتخاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو اسرائیلی فوج کے ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے حماس کے رہنما عبدالعزیز الرنتیسی کو غزہ کے شہیدوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔ ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کے جنازے میں شامل افراد نے جن میں مسلح شدت پسند بھی شامل تھے اسرائیل سے بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔ حماس نے کہا ہے کہ نئے رہنما کا انتخاب ہو چکا ہے لیکن ابھی سلامتی کے خطرے کے پیشِ نظر ان کی شناخت نہیں بتائی جائے گی۔ رنتیسی کے قتل کی سوائے امریکہ کے دنیا کے دوسرے ممالک نے مذمت کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے اتوار کو بتایا کہ امریکہ کو رنتیسی کے خلاف اسرائیل کے اس آپریشن کا پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔ ان کا یہ بیان عرب دنیا کی اس تشویش کے بعد آیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو اس کارروائی کی اجازت دی تھی۔ حماس نے کہا ہے اب اسرائیل کے خلاف ’بدلے کا ایک آتش فشاں پھٹے گا‘ اور ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رنتیسی اور یاسین کے خون سے سو گنا بڑا بدلہ لیا جائے گا۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے رنتیسی کی ہلاکت پر فوج کو مبارکباد دی ہے۔ اسرائیل کے ایک وزیر نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے سب سے بڑے قائد خالد میشال کے قتل کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||