BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 April, 2004, 23:37 GMT 04:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رنتیسی کی تدفین، نئے رہنما کا انتخاب
غزہ میں غم و غصہ
حماس نے کہا ہے کہ بدلے کا آتش فشاں پھٹے گا
سنیچر کو اسرائیلی فوج کے ایک میزائل حملے میں ہلاک ہونے والے حماس کے رہنما عبدالعزیز الرنتیسی کو غزہ کے شہیدوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا ہے۔

ان کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ ان کے جنازے میں شامل افراد نے جن میں مسلح شدت پسند بھی شامل تھے اسرائیل سے بدلہ لینے کا عہد کیا ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ نئے رہنما کا انتخاب ہو چکا ہے لیکن ابھی سلامتی کے خطرے کے پیشِ نظر ان کی شناخت نہیں بتائی جائے گی۔

رنتیسی کے قتل کی سوائے امریکہ کے دنیا کے دوسرے ممالک نے مذمت کی ہے۔

سو گنا بڑا بدلہ
 انتقام کا آتش فشاں پھٹے گا۔
حماس

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی مشیر کونڈولیزا رائس نے اتوار کو بتایا کہ امریکہ کو رنتیسی کے خلاف اسرائیل کے اس آپریشن کا پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔

ان کا یہ بیان عرب دنیا کی اس تشویش کے بعد آیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو اس کارروائی کی اجازت دی تھی۔

حماس نے کہا ہے اب اسرائیل کے خلاف ’بدلے کا ایک آتش فشاں پھٹے گا‘ اور ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ رنتیسی اور یاسین کے خون سے سو گنا بڑا بدلہ لیا جائے گا۔

اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اسرائیل کے وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے رنتیسی کی ہلاکت پر فوج کو مبارکباد دی ہے۔

اسرائیل کے ایک وزیر نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے سب سے بڑے قائد خالد میشال کے قتل کا بھی منصوبہ بنایا ہے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد