’اسرائیل کو دفاع کا حق حاصل ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ ایک بیان میں مشرق وسطیٰ میں امن و سلامتی کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے البتہ اِس میں عبدالعزیز رنتیسی کی ہلاکت کی مذمت نہیں کی گئی ہے۔ بیان میں شدت پسند تنظیم حماس کو دہشت گرد قرار دینے کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ تاہم دیگر تنظیموں نے رنتیسی کی ہلاکت کی مذمت کی ہے۔ اقوام تحدہ کے سیکٹری جنرل کوفی عنان نے رنتیسی کی گاڑی پر اسرائیلی حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں مزید تشدد کا سبب بن سکتا ہے۔ عرب لیگ کے سربراہ امر موسیٰ نے کہا ہے کہ اسرائیلی پالیسی جارحیت پر مبنی ہے اور بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کی سلامتی کے لئے ضروری اقدامات کرے۔ یورپی اتحاد نے بھی رنتیسی کی ہلاکت کو غیرقانونی کارروائی قرار دیا ہے۔ اس کے برعکس اسرائیل اپنے موقف پر برقرار ہے کہ اسے حملہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایک اسرائیلی ترجمان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کرنے والے رہنما کو ختم کر دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||