BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 April, 2004, 23:07 GMT 04:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رنتیسی اسرائیلی حملے میں ہلاک
مشرق وسطی
عبدالعزیز رنتیسی کار پر حملے میں ہلاک
اسلامی شدت پسند تنظیم حماس کے سربراہ عبدالعزیز رنتیسی کو اسرائیلی ہیلی کاپٹرو ں کے ایک میزائل حملے میں ہلاک کر دیا گیا ہے۔

انہیں نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب وہ غزہ شہر سے اپنی کار میں گزر رہے تھے۔

رنتیسی کی موت حماس کے روحانی پیشوا شیخ احمد یاسین کی موت کے ٹھیک 26 دن کے بعد ہوئی۔ انہیں بھی اسی طرح کے اسرائیلی ٹارگٹ حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

اس موقع پر عبدالعزیز رنتیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے دوزخ کے دروازے کھول دیئے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں رنتیسی کی کار میں موجود دو دیگر افراد بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس سے قبل غزہ شہر کے شمال میں ایک سرحدی چوکی پر ایک فلسطینی خودکش بمبار نے حملہ کیا جس میں بمبار سمیت ایک اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گیا۔

News image
رنتیسی کو زخمی حالت میں ہسپتال لے جایا گیا

غزہ شہر میں بی بی سی کے نامہ نگار پیٹر گریسٹ کے مطابق لوگوں کا خیال ہے کہ اسرائیلی حملہ اسی خودکش حملے کا جواب ہے۔

مقامی وقت کے مطابق رات کے ساڑھے آٹھ بجے ہونے والے دھماکے کی آواز پورے غزہ شہر میں سنی گئی۔ اس طرح کی اطلاعات بھی ہیں کہ کار پر دو میزائل پھینکے گئے۔

دوسرے مرنے والوں میں رنتیسی کے ایک بیٹے بھی بتائے جاتے ہیں۔

جس وقت انہیں تباہ شدہ کار سے نکالا گیا تو رنتیسی ابھی زندہ تھے۔ انہیں فوراً ہسپتال پہنچایا گیا لیکن ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود وہ دم توڑ گئے۔

ان کی جان بچانے کی کوشش کرنے والے ڈاکٹر جمعہ الساکا نے بی بی سی کو بتایا کہ رنتیسی کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔ ان کے سر پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور ان کی گردن اور جسم کے دوسرے حصوں پر گہرے زخم تھے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کا’ کوئی ہسپتال بھی انہیں نہیں بچا سکتا تھا‘۔

حماس کے حامی فوراً ہی ہسپتال اور دھماکے کی جگہ پہنچ گئے اور اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔

حماس کے ایک رہنما اسماعیل ہانیہ نے ہسپتال میں رپورٹروں کو بتایا کہ ’اسرائیل اس حملے پر افسوس کرے گا۔ بدلہ آ رہا ہے۔ یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ حماس میں ہماری قسمت ہے اوور یہ بطور فلسطینی ہماری قسمت ہے کہ ہاری موت شہید کے طور پر ہو‘۔

رنتیسی کی کار
عبدالعزیز رنتیسی کی کار

حماس کے شدت پسند قائد رنتیسی شیخ یاسین کی موت کے بعد اسرائیل کے سب سے اہم ٹارگٹ بتائے جاتے تھے۔

اسرائیی فوج نے حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ’رنتیسی دہشت گردی کے سرغنا تھے اور وہ کئی دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار تھے جن میں بہت سے اسرائیلی ہلاک ہوئے‘۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ صدر بُش کی اس توسیخ کے بعد ہو ا ہے جس میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون سے کہا تھا کہ وہ غرب اردن کے کچھ علاقے اسرائیلی قبضے میں ہی رہنے دیں اور فلسطینی مہاجرین کو اس علاقے میں داخل ہونے سے روکیں جو اب اسرائیلی سرحد میں شمار کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد