شیخ یاسین کا وسیع پیمانے پر سوگ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عسکریت پسند فلسطینی تنظیم حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین کے جنازے میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ شیخ یاسین پیر کی صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکلتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹروں کی فائرنگ کا نشانہ بنے۔ ان کی ہلاکت کی عالمی سطح پر زبردست تنقید ہوئی ہے جبکہ ان کی تنظیم حماس نے اس واقعہ کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے اسرائیلی سیکیورٹی افواج کو کامیاب کارروائی پر مبارکباد دی ہے اور شدت پسند رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لئے کام کرنے والے رابطہ کار اقوام متحدہ، روس، امریکہ اور یورپی یونین ایک ہنگامی اجلاس میں شیخ یاسین کے قتل کے مضمرات پر غور کر رہے ہیں۔
شیخ یاسین مشرق وسطیٰ میں انتفادہ کے آغاز کے بعد گزشتہ تین سال میں اسرائیل کے ہاتھوں حماس کے مارے جانے والے سب سے اہم رہنما ہیں۔ اسرائیل میں شدید رد عمل کے امکان کے تحت تمام متعلقہ شعبے انتہائی چوکس ہیں۔ سیخ یاسین پر حملے میں ان کے ایک بیٹے سمیت ان کے دو باڈی گارڈ بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ غزہ شہر میں جنازے کے دوران شرکاء میں شیخ یاسین کی میت کو ہاتھ لگانا کے لئے زبردست دھکے بازی دیکھنے میں آئی۔ اس موقع پر حماس کی پٹیاں سر پر باندھے ہوئے بندوق بردار افراد نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ شیخ یاسین کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی غزہ میں لوگ سڑکوں پر آگئے اور اسرائیلی فوجیوں اور فلسطینی نوجوانوں کے درمیان چھڑپیں شروع ہو گئیں۔ اسی دوران فلسطینی ذرائع کے مطابق نابلوس میں ایک فلسطینی صحافی بھی اسرائیلی فوجیوں کا نشانہ بن گئے۔ حماس نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے ’اپنے لئے جہنم کے دروازے کھول دیئے ہیں اور ان کا سر کاٹنے سے ہمیں کوئی نہیں روک سکتا‘۔ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ فلسطین کے وزیر اعظم احمد قرئی نے شیخ یاسین پر حملے کو ’خطرناک بزدلانہ کارروائی‘ کہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||