شیخ یاسین کی ہلاکت پر شدید رد عمل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی فوج نے فلسطینی تنظیم حماس کے روحانی قائد شیخ احمد یاسین کو پیر کے روز ایک فضائی حملہ کر کے ہلاک کردیا۔ اس کارروائی پر دنیا بھر سے شدید رد عمل سامنےآیا ہے۔ فلسطینی تنظیم حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے لئے جہنم کا دروازہ کھول لیا ہے۔ فلسطینی انتظامیہ نے اس فعل کو خطرناک اور انتہائی بزدلانہ کارروائی قرار دیا ہے۔ یورپ اور عرب دنیا نے اس اسرائیلی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ بش انتظامیہ نے حماس کے رہنما شیخ احمد یاسین نے قتل پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ ترجمان نے شیخ یاسین کی ہلاکت پر لوگوں کو پر سکون رہنے کا کہا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فریقین کو چاہئے کہ اس موقع پر تحمل کا مظاہرہ کریں۔ تاہم امریکہ نے سرکاری طور پر شیخ احمد یاسین کے قتل کی مذمت نہیں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان نے شیخ احمد یاسین کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کے خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے امن کے حصول میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انہوں نے خطے کے تمام فریقوں سے تحمل اپیل کی ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون نے ٹھیک اس وقت جب شیخ احمد یاسین کے تدفینی جلوس نکلنے کا سلسلہ جاری تھا، اسرائیلی ٹیلی ویزن پر آ کر اسرائیلی مسلح افواج کو مبارک باد دی اور کہا کہ اسرائیل نے پہلی بار ایک اہم اورانتہائی سرکردہ رہنما کو نشانہ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے انہوں نے شیخ احمد کو فلسطینی دہشت گرد قاتل قرار دیا۔ مصر کے صدر حسنی مبارک نے اسے ایک ظالمانہ واقعہ قرار دیا ہے اور برطانیہ کے وزیر خارجہ جیک سٹرا نے اس کارروائی کو ناقابل قبول اور غیر منصفانہ اقدام قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ’میرا نہیں خیال کہ وہیل چئیر پر بیٹھے ایک شخص کو ہلاک کرنے سے اسرائیل کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘۔ فرانس نے کہا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
روس نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کارروائی سے تشدد کی ایک نئی لہر شروع ہوسکتی ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ حاویار سولانا نے کہا ہے کہ یہ ہلاکت مشرق وسطیٰ میں امن کے عمل پر نہایت منفی اثرات مرتب کرے گی۔ عراق میں امریکہ کی قائم کردہ حکمراں کونسل نے اس ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ اسرائیل کے اس اعلان کے بعد کہ وہ غزہ کی پٹی سے اپنی بستیاں ختم کررہے ہے، امن کے عمل مییں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے کیونکہ ایک طرف تو اسرائیل کا یہ اعلان ہے اور دوسری طرف غرب اردن میں فصیل کی تعمیر بھی جاری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||