غزہ کا مستقبل اور فلسطینی قیادت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کی پیش کش پر فلسطینی دھڑے غرب اردن میں ملاقات کر رہے ہیں۔ ان دھڑوں میں فلسطینی رہنما یاسر عرفات کی فتح پارٹی کے نمائندے، اس کے علاوہ عسکریت پسند جماعتوں حماس اور اسلامک فرنٹ کے اراکین بھی شامل ہیں۔ زیادہ تر فلسطینی دھڑوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ممکنہ انخلاء کے بعد فلسطینی دھڑوں میں اقتدار کی شراکت پر اتفاق رائے ہے اور وہ مشترکہ طور پر زمہ دارریاں نبھانے پر آمادہ ہیں۔ لیکن ان تمام دھڑوں کا کہنا ہے کہ یہ تو ابتدائی قدم ہے دیگر حکمت عملی کسی باقاعدہ فیصلے کے بعد طے کی جا سکے گی۔ فلسطینی دھڑوں کی اس ملاقات پر یروشلم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اس طرح کی ملاقاتیں کوئی غیر معمولی بات نہیں، گو کہ یہ ملاقات ہفتے کو اسرائیلی منصوبے کے جواب میں کی گئی ہے لیکن اب بھی فلسطینی دھڑوں کے مابین نظریاتی اور سیاسی داؤ پیچ پر مبنی اختلافات باقی ہیں۔ مثال کے طور پر حماس نے اپنے لیڈر شیخ احمد یاسین کے قتل کے بعد فلسطینی وزیر اعظم کی وہ درخواست رد کر دی ہے جو انہوں نے حماس کے خود کش بم حملوں پر پابندی کے سلسلے میں کی تھی۔ حماس کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی فوج کے انخلاء کے بعد غزہ کے امور میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے لیکن اس کے ہی سیاسی رہنما یہ بھی کہ رہے ہیں کہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ غزہ کے امور چلانے کے لیے دیگر فلسطینی رہنماؤں کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||