شیرون: امریکی دورے کی تیاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایریئل شیرون کے امریکی دورے سے قبل ایک امریکی وفد اسرائیلی و فلسطینی رہنماؤں سے علیحدہ علیحدہ بات چیت میں مصروف ہے۔ ایریئل شیرون جو حالیہ ماہ واشنگٹن کا دورہ کرنے والے ہیں غزہ سے فوجی انخلاً کے متنازع معاملے پر امریکی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے۔ فلسطین کی خواہش ہے کہ اسے بھی مذاکرات میں ضرور شامل کیا جائے۔ ایریئل شیرون دو ہفتوں کے اندر اندر صدر بش سے ملاقات کرنے کے لئے واشنگٹن روانہ ہونے والے ہیں۔ اس دورے سے متعلق یہ قیاس آرائیاں زور و شور سے کی جا رہی ہیں کہ دونوں رہنما اس موقع پر غزہ سے فوجی انخلا کے متنازعے معاملے پر ضرور بات چیت کریں گے۔ اس معاملے پر اب تک امریکہ اسرائیل کو ہدایت کرتا رہا ہے کہ وہ بنائے گئے ’نقشہ راہ پر عمل درآمد جاری رکھے‘۔ تاہم دونوں فریقین اپنے اپنے امن موقف کی پاسداری کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ لیکن لگتا ہے کہ ایریئل شیرون غزہ سے فوجی انخلا کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور وہ اس پر کاربند ہوکے رہیں گے۔ اس منصوبے کی کچھ تفصیلات سامنے آنا شروع ہوئی ہیں جیسا کہ مقبوضہ علاقوں سے اسرائیلی نو آبادیوں کا انخلا یا ان کا مکمل صفایا کیا جانا۔ گزشتہ ہفتے حماس کے رہنما شیخ یسین کے قتل کے بعد مبصرین کا خیال تھا کہ امن کوششوں کو اس کارروائی سے سخت نقصان ہوگا۔ لیکن فی الحال یروشلم میں امریکی وفد کی موجودگی سے لگتا ہے کہ ایریئل شیرون کے غزہ سے فوجی انخلا کے متنازع معاملے پر انہیں امریکی وفد کی حمایت حاصل ہے جب تک ایریئل شیرون نقشہ راہ پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ جلد ہی امریکی وفد فلسطینی رہنما احمد قریع سے بات چیت کرنے والا ہے جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ غزہ سے اسرائیلی فوج اور آباد کاروں کی واپسی کے حامی ہیں۔ احمد قریع کے مطابق اس طرح امن کوششوں کو تقویت ملے گی۔ لیکن احمد قریع کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس ضمن میں ہونے والے مذاکرات میں دیگر فلسطینی رہنماؤں کو بھی شامل کیا جانا چاہیے جنہیں شیرون حکومت اب تک شامل کرنے سے انکار کرتی رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||