یہودی آبادکاروں کی آمد پر ہنگامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرقی بیت المقدس میں یہودی آباد کاروں کی آمد پر پولیس اور علاقے کے عربوں میں تصادم شروع ہو گیا ہے۔ اس تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب پندرہ یہودیوں کا ایک قافلہ عرب اکثریت کے علاقے مشرقی بیت المقدس یا یروشلم میں آباد ہونے کے لیے پہنچا۔ انہیں دیکھ کر علاقے کے عرب مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ان کے ساتھ آنے والی پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے غرب اردن کے شہر ہبرون کے قریب ایک نوآبادی کو جو یہودی آباد کاروں سے خالی کرائی گئی تھی مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ دریں اثناء فلسطینی وزیراعظم احمد قریع نے مقبوضہ غرب اردن کے کچھ علاقوں اور غزہ کی پٹی سے یک طرفہ اسرائیلی انخلاء کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس یک طرفہ انخلاء سے مذاکرات کی بحالی کی راہ ہموار ہونی چاہیے۔ امریکی سفارتکاروں کے ایک وفد کی جانب سے خطے کے دورے سے قبل فلسطینی وزیراعظم نے خبردار کیا تھا کہ غزہ سے انخلاء کے بعد اگر مقبوضہ غرب اردن کو بھی مکمل طور پر خالی نہ کیا گیا تو اس سے مزید رکاوٹیں پیدا ہوجائیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو نہ تو غزہ سے یہودی آبادکاروں کو غرب اردن منتقل کرنا چاہیے اور نہ ہی اس کی آڑ میں غرب اردن کی یہودی آبادیوں کو ہتھیانا چاہیے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوجیوں نے غزہ کی پٹی میں قائم یہودی آبادی نیوہ دکالم کے نزدیک دو فلسطینیوں کو ہلاک کردیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ان افراد پر اس وقت فائر کھولا جب یہ لوگ ایک فوجی چوکی کی جانب بڑھ رہے تھے۔ فوج نے یہ نہیں بتایا کہ فلسطینی افراد مسلح بھی تھے یانہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||