رنتیسی کی جدوجہد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عبدالعزیز رنتیسی ہفتے کی شام اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کے حملے کا اس وقت شکار ہوئے جب وہ غزہ سے اپنی کار میں گزر رہے تھے۔ اس سے قبل مسٹر رنتیسی پر پچھلے برس بھی ایسا ہی ایک حملہ کیا گیا تھا۔ موجودہ برس مارچ میں اسی نوعیت کے ایک حملے میں حماس کے روحانی پیشوا شیخ احمد یاسین کو بھی ہلاک گیا تھا۔ رنتیسی کو حماس کی سربراہی شیخ احمد یاسین کی اسرائیلی فضائی حملے میں موت کے بعد سونپی گئی تھی۔اس موقع پر عبدالعزیز رنتیسی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اپنے لیے دوزخ کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
وہ سن انیس سو سینتالیس میں پیدا ہوئے اور پیشے کے اعتبار سے ماہر اطفال تھے۔ 1970 میں مصر میں دوران طالبعلمی مصر کی ایک غیر قانونی اسلامی ’جماعت اخوان المسلمون‘ سے بہت متاثر تھے۔ حماس کے ساتھ رنتیسی کی قیادت انیس سو اسّی کی دہائی کے اواخر اور نوّے کے آغاز میں پہلے فلسطینی انتفادہ کے دوران ابھری تھی۔ عبدالعزیز رنتیسی کو اسرائیل کے خلاف سب سے طاقتور ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ رنتیسی نے فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ہر قسم کی جارحیت کو درست قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کو ہر قسم کی مزاحمت کا حق حاصل ہے، چاہے وہ شہریوں کے خلاف خود کش بم حملے ہی کیوں نہ ہوں۔
ان حملوں پر انیس سو اٹھانوے میں ایک عربی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئےمسٹر رنتیسی نے کہا تھا کہ’یہ دہشت گردی نہیں بلکہ اسرائیلی دہشت گردی کا جواب ہے‘۔ مسٹر رنتیسی خود کو حماس کے سات قائدین میں سے ایک گردانتے تھے۔ انتفادہ کے دنوں میں رنتیسی کئی بار اسرائیل کے ہاتھوں گرفتار ہوتے رہے اور ایک بار تو انہوں نےڈھائی سال جیل کاٹی۔ انسی سو بانوے میں وہ ان چار سو اسلامی شدت پسندوں میں شامل کیے گئے جنہیں ملک بدر کر کے لبنان بھیجا گیا تھا۔ اس دوران وہ دیگر ملک بدر ہونے والوں کے ترجمان کی حیثیت سے ابھرے۔
جب وہ واپس غزہ لوٹے تو وہ یاسر عرفات کی فلسطینی اتھارٹی کے لیے بھی اُتنے ہی نا پسندیدہ رہے جتنا کہ وہ اسرائیل کے لیے تھے۔ فلسطینی حکام نے انہیں انیس سو اٹھانوے میں اس وقت گرفتار کر لیا جب انہوں نے اتھارٹی کے چند اشخاص کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اتھارٹی پر اسرائیل کے ساتھ مل کر حماس کے ایک بم بنانے والے کی موت کا الزام عائد کیا تھا۔ تاہم فلسطینی عدالت عالیہ نے دو ماہ بعد ان کی رہائی کے احکامات جاری کر دیے تھے۔
وہ مستقل فلسطینی اتھارٹی کے ناقدین میں سے ایک تھے اور اسرائیل کی جانب سے نقشہ راہ پر فلسطینی اتھارٹی کی شدید مذمت کرتے رہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلسطین کے سابق وزیر اعظم محمود عباس کے اس فیصلے کے خلاف بھی مزاحمت سے کام لیا جس میں محمود عباس نے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے نقشہ راہ پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی تھی۔ گزشتہ برس جب محمود عباس ایریئل شیرون اور امریکی صدر بُش سے ملے تھے تب بھی عبد العزیز رنتیسی نے محمود عباس پر سخت تنقید کرتے ہوئے اخبار یروشلم پوسٹ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’ محمود عباس کی تقریر ایک بہت بڑی غلطی تھی اور اس تقریر کی مخالفت تو خود ان کی کابینہ اور محمود عباس کے بیٹے نے بھی کی تھی‘۔ ’ وہ تقریر قابل قبول نہیں تھی۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||