شیخ احمد یاسین کی شخصیت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیخ احمد یاسین کی عمر سڑسٹھ برس تھی۔ وہ حماس کے بانی اور روحانی پیشوا تھے۔ دبلے پتلے جسم کے مالک شیخ یاسین کی نظر بھی انتہائی کمزور تھی اور وہ انتہائی دھیمی آواز میں گفتگو کیا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ تمام فلسطینیوں کی امیدوں کا مرکز تھے جو اس تصور سے مایوس ہو چکے ہیں کہ امن ان کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی لا سکتا ہے۔ گزشتہ سال ستمبر میں بھی جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تو ہزاروں پُرجوش فلسطینی انتقام انتقام کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے تھے اس واقعے میں حملہ آور انہیں زخمی کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ اسرائیل، خاص طور پر اسرائیل کی موجودہ حکومت ان سے شدید نفرت کااظہار کرتی رہی ہے۔ اسرائیلی وزیرانہیں فلسطینیوں کا اسامہ بن لادن قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ’ان کے ( شیخ احمد یاسین) ہاتھ ہزاروں اسرائیلی عورتوں اور بچوں کے خون سے رنگے ہوئے تھے، اور ان کے قتل سے دنیا کو ایک بد ترین قصائی سے نجات مل گئی ہے ۔‘
وہ انیس سو اڑتیس میں پیدا ہوئے۔ اس وقت فلسطین برطانیہ کی حکمرانی میں تھا اس وقت سے ہی ان کے تمام نظریات اور تصورات اس توہین و حزیمت پر استوار ہونے لگے جس کا فلسطینیوں کو شکست کے بعد سامنا تھا۔ بچپن میں ایک حادثہ کے نتیجہ میں وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئے تھے جس کے بعد انہوں نے اپنی زندگی اسلامی تعلیمات کے لئے وقف کر دی تھی۔ انہوں نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں تعلیم حاصل۔ قاہرہ اس وقت ’اخوان المسلمون‘ کا مرکز تھا۔ یہ دنیائے عرب کی پہلی اسلامی سیاسی تحریک تھی۔ یہیں پر ان کا یہ عقیدہ راسخ ہوتا چلا گیا کہ فلسطین اسلامی سرزمین ہے اور کسی بھی عرب رہنما کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے کسی بھی حصہ سے دستبردار ہو۔ اگرچہ فلسطینی انتظامیہ سمیت عرب رہنماؤں سے ان کے تعلقات استوار رہے تاہم ان کا یہ راسخ عقیدہ تھا کہ ’نام نہاد امن کا راستہ امن نہیں ہے اور نہ ہی امن جہاد اور مزاحمت کا متبادل ہوسکتا ہے۔‘ شیخ یاسین کو سب سے پہلے سن انیس سو ستاسی میں عالمی شہرت ملی جب وہ پہلے انتفاضہ کے موقع پر سامنے آئے۔
اس وقت فلسطینی اسلامی تحریک نے حماس نام اختیار کیا جس کے معنی جوش و جذبہ کے ہیں، اور شیخ یاسین اس کے روحانی قائد چنے گئے۔ سن انیس سو نواسی میں اسرائیلی فوج سے تعاون کرنے والے فلسطینیوں کے قتل کا حکم دینے کی پاداش میں اسرائیل نے انہیں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اگرچہ سن ستانوے میں انہیں ان دو اسرائیلی ایجنٹوں کے بدلے رہا کر دیا گیا تھا جن پر اردن میں فلسطینی رہنماؤں کو قتل کرنے کا الزام تھا تاہم اسیری کے ان دنوں میں ان کی مقبولیت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور وہ فلسطین کی جہادی مزاحمت کی علامت بن گئے۔ وہ اردن میں ہونے والی عقبہ سربراہ ملاقات اور مذاکرات کے نتائج سے بھی مطمعئن نہیں تھے۔ اس ملاقات میں امریکہ، اسرائیل اور فلسطینی رہنماؤں نے ایک دوسرے سے ملاقاتیں کی تھیں اور اس سربراہ کانفرنس کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں فلسینی وزیراعظم محمود عباس نے تشدد کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||