شیخ یاسین: مذمتی قرارداد مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عرب ممالک نے امریکہ کے اس فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے جس سے اس نے سلامتی کونسل میں اس قرارداد کو ویٹو کردیا تھا جس میں حماس کے روحانی رہنما شیخ یٰسین کے قتل پر اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔ جسمانی طور پر معذور شیخ یٰسین کو پیر کے روز اسرائیلی وزیراعظم ایرئیل شیرون کے حکم پر نماز فجر کے فوراً بعد ایک میزائیل کے ذریعے قتل کیا گیا تھا۔ اقوامِ متحدہ میں فلسطینی مندوب کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے سے لاکھوں لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکے گا کہ ہوا کیا تھا۔ ادھر اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک فلسطینی اسرائیلیوں سے نفرت ختم کر کے اپنے بچوں کو خود کش بمبار بنانے کی بجائے ان سے پیار کرنا نہیں سیکھیں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن الجزائر کی جانب سے پیش کی گئی اس قرارداد میں حماس کے روحانی قائد شیخ احمد یٰسین کی قرارداد کے الفاظ میں ماورائے عدالت قتل سمیت عام شہریوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کی بھی مذمت کی گئی تھی۔
قرارداد پر رائے شماری سے پہلے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر جان نیگروپونتے نے کہا کہ ان کا ملک قرارداد کی مخالفت کرے گا کیونکہ یہ حماس کی جانب سے کئے جانے والے مظالم کے بارے میں خاموش ہے۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار مے مطابق یہ تو شروع سے ہی ظاہر تھا کہ سلامتی کونسل کے ارکان کو شیخ یاسین کے قتل سے متعلق کسی قرارداد کے متن پر راضی کرلینا انتہائی دشوار ہوگا۔ اصل تنازعہ یہ تھا کہ آیا اسی قرارداد میں ان فلسطینی گروہوں پر بھی تنقید کی جائے یا نہیں جو اسرائیل پر حملے کرتے ہیں۔الجزائر کی پیش کردہ قرارداد میں دہشت گردی کی تو مذمت تھی لیکن حماس سمیت کسی بھی تنظیم کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||