آئندہ بھی ایسا کرتے رہیں گے:شیرون | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر اعظم ایریئل شیرون نے زوردے کر کہا ہے کہ ان کی مسلح فلسطینی تنظیموں کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کی پالیسی جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بات حماس کے رہنما عبدالعزیز رنتیسی کی اسرائیلی حملے میں ہلاکت کے ایک روز بعد یروشلم میں اسرائیلی کابینہ کے اجلاس کے موقع پر کہی۔ دنیا کے کئی ممالک نے عبدالعزیز کی رنتیسی کی ہلاکت کی مذمت کی اور کہا کہ ایسا کرنا غیر قانونی ہے اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کے لئے اچھا نہیں۔ تاہم اسرائیل کے اہم حلیف امریکہ نے اس واقعہ کی مذمت نہیں کی اور کہا ہے کہ اپنا تحفظ کرنا اسرائیل کا حق ہے۔ ایریئل شیرون کی حکومت نے جو بین الاقوامی تنقید کی عادی ہو چکی ہے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حماس کے رہنما نے کھلے عام اسرائیل کے خلاف خودکش حملوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی کی تھی۔ دریں اثناء غزہ میں ہزاروں افراد نے عبدالعزیز رنتیسی کے جنازے میں شرکت کی اور اسرائیل کے خلاف حملوں کا اعادہ کیا۔ اسرائیل میں فلسطینیوں کی طرف سے بدلے کی توقع کے پیش نظر تین ہفتے قبل حماس کے سابق رہنما شیخ یاسین کی ہلاکت کے بعد ہی حفاظتی انتظامات سخت کر یئے گئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||