’فلسطینی ریاست کا قیام دور‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا ہے کہ ان کے غزہ کی پٹی سے واپسی کے نتیجہ میں فلسطینی ریاست کا قیام مزید دور ہو جائے گا۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ یکطرفہ انخلاء کے منصوبہ میں فلسطینی ریاست وجود نہیں رکھتی۔‘ اسرائیلی وزیر اعظم نے اس بات کی تصدیق کی کہ وہ غزہ میں قائم سترہ بستیوں کو خالی کر دیں گے۔انھوں نے فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے تحفظ کی ضنمانت دینے سے انکار کر دیا۔ ’ یکطرفہ انخلاء کے منصوبے‘ کے مطابق کوئی بھی بندرگاہ فلسطینی کنٹرول میں نہیں ہوگی۔ مصر سے ملحقہ بارڈر پر غزہ کی پٹی کا جنوبی علاقہ اسرائیلی کنٹرول میں رہے گا۔ اس منصوبہ کے تحت خالی کردہ سات ہزار گھر گرانے کی بجائے بین الاقوامی تنظیم کے حوالے کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا ’جو بھی یہودیوں کو قتل کرتا ہے یا انھیں یا کسی اور اسرائیلی شہری کو مارنے کا حکم دیتا ہے، نشان زدہ آدمی ہے۔ میں امریکا کے اس مشورہ کا کہ فلسطینی رہنما کو گزند نہ پہنچائی جائے کا پابند نہیں ہوں۔‘ فلسطینی رہنما یاسر عرفات نے غزہ میں بستیوں کو خالی کر نے کے فیصلہ کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ شیرون کو مغربی کنارہ بھی خالی کرنا ہو گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ انٹرویو ایک یہودی مذہبی تہوار کےایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب ملک میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کئے گئے ہیں۔ بی بی سی کے یروشلم میں تعینات نامہ نگار جیمز رینالڈ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب وزیر اعظم ایریل شیرون نے اتنا واضح مؤقف بیان کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون نے کہا کہ امریکی انتظامیہ غزہ اور مغربی کنارہ کو خالی کرنے کی واضح نشان دہی چاہتی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’ یکطرفہ منصوبہ میں فلسطینی ریاست وجود نہیں رکھتی اور یہ صورت برسوں چلے گی ۔‘ ایک اور اخبار سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ ’اس منصوبہ سے فلسطینیوں کے خواب پریشان ہو جائیں گے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||