شیرون کے غزہ منصوبے پر ناراضگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہودی آبادکار اسرائیلی وزیراعظم کے اس اعلان کے خلاف شدید غصے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جس میں انہوں نے غزہ میں تمام یہودی آبادیوں کے خاتمے کے لیے کہا ہے۔ ان یہودی بستیوں کے آبادکاروں کی کونسل کی ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیراعظم ایریل شیروں دہشت گردوں کے سامنے گھٹنے ٹیک رہے ہیں۔ جب کے فلسطینی مذاکرات کاروں کے سربراہ صائب ارکات نے شیرون کے اس اعلان کو تعلقاتِ عامہ کی شعبدہ گری قرار دیا ہے۔ وزیراعظم شیرون نے اپنی لیکوڈ پارٹی کے ارکان کو بتایا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں واقع ان تمام آبادیوں کو کہیں اور منتقل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے الفاظ میں ’مشکلات‘ کا باعث ہیں۔ ابھی وزیراعظم شیرون نے اس سلسلے میں کسی نظام الاوقات کا اعلان نہیں کیا تاہم وہ چاہیں گے کہ پہلے وہ اس سلسلے میں آبادکاروں کو آمادہ کر لیں۔ تاہم بائیں بازو کے ایک اخبار ہاریٹس سے گفتگو میں ایریل شیرون کا کہنا تھا کہ انہوں نے سترہ آبادیوں کی نقل مکانی کا حکم دیا ہے۔ اور اس وہ اس منصوبے پر عمل کرنا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں غزہ میں کوئی یہودی نہیں ہو گا۔ آباد کاروں کا کہنا ہے کہ اس حکم سے کم از کم سات ہزار پانچ سو آبادکار متاثر ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ لبنان سے نکلے تو حزب اللہ مضبوط ہوئی اب ہم یہاں سے نکلیں گے تو اللہ جانے اس سے حماس کو کیا فائدہ حاصل ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||