غزہ پر مصری کنٹرول :اسرائیلی پیشکش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل متعدد بار مصر کو یہ پیشکش کر چکا ہے کہ اگر وہ غزہ کے کچھ علاقوں سے اپنی فوجیں واپس بلاتا ہے تو مصر ان کا کنٹرول سنبھال سکتا ہے۔ اسرائیلی سیکورٹی ذرائع کے مطابق، اس سلسلے میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت اسرائیلی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حالیہ قاہرہ دورے کے دوران ہوئی تھی۔ اس منصوبے کے تحت، مصری فوجیں غزہ میں رفاہ کے مقام سے مصرکی سرحد تک اپنا عسکری کنٹرول قائم رکھ سکیں گی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کے وہ غزہ سے فوجوں کی واپسی پر غور کر رہا ہے۔ اسی دوران ،یروشلم سے ملنے والی اطلات کے مطابق اسرائیلی افواج نے ان فلسطینیوں پر دستی بموں کا استعمال کیا جو ایک متننازعہ مقدس مقام پر پتھراوُ کر رہے تھے۔ اسرائیلی پولیس نے اس احاطے پر دھاوا بولا، جسے مسلمان حرم الشریف کہتے ہیں اور یہودیوں کے لیے وہ گنبد سخرہ ہے جہاں مسجد اقصٰی میں جمعہ کی نماز کے بعد فلسطینیوں اور اسرایلیوں کے درمیان تصادم شروع ہوگیا تھا۔ اسرائیلی افواج اور فلسطینیوں کے درمیان بذریعہ مصر غزہ میں دھماکہ خیز مواد اور ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے سلسلے میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں۔ ئہ اسمگلنگ اس راستے سے کی جاتی ہے جسے "فلاڈلفیا کوریڈور " کہا جاتا ہے۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کے اگر وہ غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلاتا ہے تو شدت پسند اسلامی گروہ حماس علاقے پر قبضہ کرتے ہوۓ غیر قانونی اسلحےکی نقل وحرکت شروع کر دے گا۔ جبکہ مصر کو یہ فکر ہے کے اگر حماس کا کنٹرول علاقے پر ممکن ہو جاۓ گا تو مصر کے بنیاد پرست مسلمان گروہ حوسنی مبارک کی حکومت کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کےمطابق، غزہ میں مصری فوجی کنٹرول پر آئندہ ہفتے اس وقت مزاکرات کی امید کی جا رہی ہےجب ارئیل شیرون کے بیورو چیف وہائٹ ہاوس کا دورہ کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||