یروشلم: دھماکہ، فلسطینی گروپ کا اعتراف | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یروشلم میں ایک بس میں ہونے والے خودکش دھماکہ میں کم سے کم سات افراد ہلاک اور چالیس زخمی ہوگئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اسے خودکش بم دھماکہ قرار دیا ہے۔ جبکہ موقع پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قرائن بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ فلسطینی شدت پسند تنظیم الاقصٰی بریگیڈ نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے حملہ آور کا نام محمد زال بتایا ہے۔ دریں اثنا اسرائیل کے وزیر دفاع نے بتایا کہ ممکنہ جوابی کارروائی پر غور کرنے کے لئے اتوار کی شام کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔ فلسطینی دو ہفتے قبل غزہ میں کی جانے والی اسرائیلی کارروائی کا بدلہ لینے کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ اس کارروائی میں پندرہ فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے۔ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے آٹھ بجے ہوا جس وقت بس میں مسافروں کی بھیڑ تھی۔ یہ دھماکہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل نے غرب اردن میں ایک گاؤں کے گرد متنازعہ حفاظتی باڑ کا کچھ حصہ مسمار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس باڑ سے مذکورہ گاؤں کا اس کے گرد ونواح سے رابط منقطع ہو گیا تھا۔ اسرائیل کے وزیر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تازہ ترین حملے سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل خود کش حملوں آوروں کو روکنے کے لئے باڑ لگانے کی پالیسی میں حق بجانب ہے۔ پیر کے روز عالمی عدالت انصاف اسرائیل کی تعمیر کردہ اس حفاظتی باڑ کے خلاف ایک مقدمہ کی سماعت شروع کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||