یہودی بستیوں کے لئے بجٹ منظور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی حکومت نے بظاہر مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں کے لئے بستیاں بنانے کی غرض سے بائیس ارب ڈالر کا بجٹ منظور کیا ہے۔ اس اقدام سے فلسطینیوں میں شدید اضطراب اور غصہ پایا جاتا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا یہ فیصلہ وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے اس وعدے کے محض دو ہفتوں بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ کی پٹی میں تمام یہودی بستیوں کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسرائیلی اہلکاروں نے یہ نہیں بتایا کہ منظور ہونے والی رقم کہاں جائے گی لیکن نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس رقم کا بیشتر حصہ غربِ اردن اور مشرقی یروشلم جائے گا۔ نقشۂ راہ کی شرائط کے تحت اسرائیل کو غزہ میں ان تمام یہودی بستیوں کو ختم کرنا ہے جو اس زمین پر واقع ہیں جو انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے بعد اسرائیل کے قبضے میں آ گئی تھی۔ بی بی سی کے میٹ پوجر کہتے ہیں کہ نئی بستیوں کے لئے رقم کی فراہمی کی بات ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیل میں اقتصادی صورتِ حال ٹھیک نہیں ہے۔ یہودی بستیوں کے لئے رقم کی فراہمی کا یہ فیصلہ جسے اسرائیلی کی پارلیمان کی فنانس کمیٹی نے منظور کیا ہے، اسرائیل میں حزبِ مخالف کی تنقید کا بھی شکار ہوگیا ہے۔ اب یہودی بستیوں کی تعمیر میں استعمال کے لئے رکھی گئی رقم اول اول اسرائیل میں کم آمدنی والے خاندانوں اور نوجوان جوڑوں کو رہائش کے حصول میں امداد کے لئے رکھی گئی تھی۔ دریں اثناء فلسطینیوں کے اہم مذاکرات کار صائب اراکات نے الزام لگایا ہے کہ اسرائیل امن کے عمل کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے کہا ’ایک طرف وہ غزہ سے بستیاں ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں جبکہ دوسری طرف غزہ اور غرب اردن میں ہر جگہ بستیاں بنانے کے لئے اربوں ڈالر مختص کئے جا رہے ہیں۔‘ ادھر امن کے عمل کی بحالی کے لئے امریکی ایلچی بدھ کو پھر اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔ سخت گیر موقف رکھنے والوں نے وزیرِ اعظم ایریئل شیرون کے بستیاں ختم کرنے کے منصوبے شدید مخالف کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||