اسپین: پانچوں مشتبہ افراد ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ میڈرڈ حملوں میں ملوث پانچوں مشتبہ افراد نے پولیس کے چھاپے کے وقت اپنے آپ کو دھماکے سے ختم کرلیا۔ یہ چھاپہ ان فراد کے رہائشی فلیٹ پر مارا گیا تھا۔ علاقے کے میئر کے کہنے پر پیر کی شام مقامی افراد ایک امن مارچ میں حصہ لیں گے۔ اطلاعات کے مطابق گروہ کے مبینہ سرغنہ عبدالماجد بھی ہفتہ کی رات کئے گئے اس دھماکے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ دھماکے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے۔ سپین کے وزیر داخلہ کے مطابق ان افراد نے خود کو گرفتاری سے بچنے کے لئے ہلاک کیا وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اب انہیں یقین ہے کہ میڈرڈ حملوں میں ملوث افراد یا تو حراست میں ہیں یہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرحان بن عبدالمجید فاخت عرف تیونسی کی گرفتاری کے بین الاقوامی وارنٹ گزشتہ ہفتے جاری کیے گئے تھے۔ ان پر میڈرڈ حملوں کا شبہ تھا۔ وزیر داخلہ کے مطابق دھماکہ میں ایک پولیس والا ہلاک اور گیارہ دیگر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہسپتال کے ذرائع کے مطابق ان میں بہت سے زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک فلیٹ میں چھپے ہوئے تین مبینہ دہشت گردوں نے اس وقت اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا جب پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر اس فلیٹ پر چھاپہ مارا۔ وزیر داخلہ کے بیان کے مطابق جب پولیس نے اس عمارت کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو عمارت کے ایک فلیٹ سے پولیس پر فائرنگ شروع کر دی گئی۔ پولیس نے اس دوران میں عمارت کو خالی کرا لیا۔ پولیس کے اہلکاروں نے جب فلیٹ میں داخل ہونےکی کوشش کی تو ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں ایک پولیس اہلکار ہلاک اور فلیٹ میں موجود تین مبینہ دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسے فلیٹ سے دو مزید تھیلے ملے ہیں جن میں دھماکہ خیز مواد بھرا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ عمارت میں بنے گیراج میں کھڑی کار سے ایک بم بھی برآمد ہوا ہے جسے پولیس نے ناکارہ بنا دیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس کی یہ کارروائی گیارہ مارچ کو ہونے والے دھماکے کے سلسلے میں کی جانے والی تفتیش کا حصہ تھی۔ سپین میں گیارہ مارچ کو خوفناک دھماکوں میں دو سو کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ گزشتہ روز پولیس کو میڈرڈ اور سیوائل کے ریلوے لائن پر رکھا ہوا ایک بم ملا تھا۔ سپین کے وزیرِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کا پتہ اس وقت چلا جب ریلوے کے ایک کارکن کی اس پر نظر پڑی۔ یہ مواد وزن میں دس کلو تھا اور اس کے ساتھ ایک تار نصب تھی جس کے ذریعے دھماکہ کیا جانا تھا۔ یہ بم کس نے رکھا تھا اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی۔ وزیر داخلہ نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اپنی پولیس اور سکیورٹی دستوں پر اعتماد رکھیں۔ بم کی برآمدگی کے بعد ریلوے لائن پر ٹرین سروس فوری طور پر روک دی گئی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||