سپین کی فوج عراق سے’جلد واپس‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپین میں اتوار کے عام الیکشن میں کامیاب ہونے والی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما اور ملک کے آئندہ نامزد وزیراعظم ہوزے لوئس ریڈریگوز زپاتیرو نے کہا ہے کہ وہ عراق سے اپنی فوجیں جون کے مہینے تک واپس بلانا چاہتے ہیں۔ مسٹر زپاتیرو نے کہا کہ عراق میں جنگ کرنا ایک تباہ کن فیصلہ تھا اور اب وہاں قبضہ کرنا بھی ایک تباہ کن عمل ہے۔ مسٹر زپاتیرو نے کہا کہ عراق سے فوجیں واپس بلانے کا حتمی فیصلہ وہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اور مشاورت کے ساتھ ہی کریں گے لیکن اگر عراق میں اقتدار کی منتقلی میں جون تک کوی پیش رفت نہیں ہوئی تو سپین کی فوج واپس بلا لی جائے گی۔ عراق میں جنگ کرنے کےلئے سپین نے امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کی تھی اور اس کے وہاں تیرہ سو فوجی تعینات ہیں۔ اس سے پہلے سپین میں اتوار کے عام انتخابات میں سوشلسٹ پارٹی کی کامیابی پر حکومت نے اسے مبارک باد دی ہے۔ اس سے قبل زیادہ تر نتائج آنے کے بعد ملک کی سوشلسٹ حزب اختلاف نے اپنی کامیابی کا دعوٰی کیا تھا۔ سرکاری نتائج کے مطابق حکمران قدامت پسند جماعت پاپولر پارٹی کے مقابلے میں سوشلسٹ کہیں آگے تھے۔ ان انتخابات پر جمعرات کو ہونے والے بم دھماکوں کے سائے منڈلاتے رہے۔ ان دھماکوں میں دو سو افراد ہلاک اور چودہ سو سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ اس سے قبل حکومت نے ان دھماکوں کے سلسلہ میں القاعدہ پر شبہ ظاہر کیا تھا تاہم وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ فی الوقت وہ مبینہ ویڈیو کیسٹ جس میں ان دھماکوں کی ذمہ داری ایک شخص نے قبول کرتے ہوئے خود کو القاعدہ کا رکن کہا ہے، تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس کے خیال میں یہ دھماکے باسک علیحدگی پسند تنظیم ای ٹی اے نے کروائے ہیں۔ مڈرڈ میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ممکن ہے انتخابات میں حکمراں جماعت کی ناکامی کا سبب اس کے وزراء کا ان دھماکوں کے بارے میں ابتدائی تحقیقات کو ناقص طریقے سے چلانا ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||