دادری قتل کیس: مٹن تھا یا بیف؟

،تصویر کا ذریعہReuters
- مصنف, دیویا آریا
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
پچھلے سال انڈیا میں ہجوم نے ایک مسلمان مرد کو اس الزام کی بنیاد پر مار ڈالا کہ اس نے اپنے مکان میں بیف نہ صرف سٹور کیا ہوا تھا بلکہ وہ کھاتے بھی تھے۔ اس واقعے کے بعد ملک بھر میں مذہبی رواداری کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔
اب اس کیس نے نیا رخ اختیار کیا ہے اور تحقیقات کے بارے میں کئی سوالات پیدا ہوئے ہیں۔
محمد اخلاق کو گذشتہ سال ستمبر میں ضلع دادری میں قتل کیا گیا۔
اس قتل کے بعد محمد اخلاق کے فرج سے جو گوشت برآمد ہوا اس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ مٹن تھا نہ کہ بیف۔
تاہم اس گوشت کے نئے تجزیے سے معلوم ہوا کہ وہ بیف ہی تھا۔ اس کے بعد یہ بات بھی سامنے آئی کہ وہ گوشت اخلاق کے فرج میں نہیں تھا بلکہ مکان کے کوڑے دان میں پڑا تھا۔
اگرچہ پولیس کا کہنا ہے کہ اس کیس میں گوشت کی کیا قسم تھی بے معنی ہے لیکن اس مقدمے میں ملوث 18 افراد کے وکلا نئے تجزیے کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر اپنے موکلوں کی رہائی چاہ رہے ہیں۔ ان وکلا کا موقف ہے کہ مکان میں بیف ہونے کے باعث ان کے موکلوں نے اشتعال میں آ کے اخلاق پر حملہ کیا۔
اس مقدمے کی سماعت پیر کو ہونی ہے جس میں استدعا کی جا رہی ہے کہ گائے کو ذبح کرنے کا مقدمہ اخلاق کے گھر والوں کے خلاف درج کیا جائے۔
آخر گوشت کے تجزیے کی دونوں رپورٹوں میں تضاد کیوں ہے اور دوسرے ٹیسٹ کی رپورٹ منظر عام پر آنے میں اتنا وقت کیوں لگا؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گوشت کہاں سے ملا؟

محمد اخلاق کے قتل کے بعد یہ رپورٹیں گردش کرنا شروع ہو گئیں کہ پولیس نے اخلاق کے فرج سے گوشت کے نمونے قبضے میں لے لیے ہیں۔
لیکن پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے گوشت کو قبضے میں لیا ہی نہیں تھا۔
اس واقع کے آٹھ ماہ بعد تفتیشی افسر انوراگ سنگھ نے وضاحت کی ہے کہ گوشت کے نمونے اس جگہ سے لیے گئے جس جگہ ہجوم نے اخلاق کو قتل کیا۔ یہ جگہ اخلاق کے مکان سے 330 فٹ دور ہے۔
انوراگ سنگھ نے بی بی سی کو بتایا ’اخلاق کی لاش اس کے مکان کے قریب ٹرانسفارمر کے قریب پڑی تھی اور وہیں سے ہمیں وہ گوشت ملا۔‘
گوشت کا دوسرا تجزیہ کیوں کیا گیا؟

اخلاق کے قتل کے بعد جاری ہونے والی گوشت کے تجزیے کی پہلی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گوشت مٹن تھا۔
تاہم فورنزک انویسٹیگیشن لیبارٹری کے انچارج ایچ سی سنگھ نے جنھوں نے گوشت کے تجزیے کی دوسری رپورٹ جاری کی بی بی سی کو بتایا کہ پہلی رپورٹ گوشت کو چھو کر جاری کی گئی تھی۔
انھوں نے مزید کہا کہ پہلا تجزیہ جانوروں کے ڈاکٹر نے کیا جنھوں نے لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے کی سفارش کی۔
’ہماری لیبارٹری واحد لیبارٹری ہے جہاں ایسے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔‘
تجزیے کی رپورٹ میں تاخیر کیوں؟

ایچ سی سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کو اکتوبر ہی میں معلوم ہو گیا تھا کہ گوشت بیف ہی تھا مٹن نہیں۔ تاہم اس کی رپورٹ پولیس کو دسمبر میں دی گئی۔
سنگھ نے اس تاخیر کی وجہ لیبارٹری میں ڈاک ٹکٹیں نہ ہونا اور تین ماہ تک چیئرمین کا بھی نہ ہونا بتائی۔ تاہم لوگ ان وجوہات سے مطمئن نہیں ہیں۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں تاخیر کے حوالے سے افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ اس واقعہ کے بعد ملک بھر میں کشیدگی کے باعث لیبارٹری پر رپورٹ تاخیر سے دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔
یہ رپورٹ جون میں اس وقت منظر عام پر لائی گئی جب 18 افراد کے وکلا نے عدالت سے اس رپورٹ کی کاپی طلب کی۔
مقدمے پر کیا اثر پڑے گا؟

،تصویر کا ذریعہAkhilesh Yadav
عدالت اور پولیس دونوں ہی کا کہنا ہے کہ نئی رپورٹ کا مقدمے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہجوم کے ہاتھوں اخلاق کے قتل کی تحقیقات کا اس سے کوئی تعلق نہیں‘۔
اخلاق کے قتل کے الزام میں گرفتار ایک شخص کے وکیل رام شرن یادیو کا کہنا ہے کہ عدالت نے دوسرے تجزیے کی رپورٹ فراہم کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
اخلاق کے خاندان کے وکیل کا کہنا ہے کہ ’بہر حال ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے کہ ایک انسان کو اس لیے قتل کر دیا جائے کہ اس نے اس جانور کو ذبح کیا ہو جس کی ممانعت ہے‘۔







