کشمیر میں تین روز سے جاری تصادم ختم، تمام شدت پسند ہلاک

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سرینگر
بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں فوج کا کہنا ہے کہ سری نگر کے قریب پام پور میں گذشتہ تین روز سے شدت پسندوں کے ساتھ جاری تصادم پیر کی دوپہر ختم ہوگیا ہے اور فوج کی جانب سے تمام شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
شدت پسندوں نے سنیچر کو سرینگر سے 15 کلومیٹر پر واقع پام پور میں ایک پانچ منزلہ عمارت پر قبضہ کر لیا تھا۔
بھارتی سکیورٹی فورسز نے سرکاری عمارت میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کو ختم کرنے کے لیے گن شپ ہیلی کاپٹروں سمیت بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا۔
بھارتی فوج نے فوج کا دعویٰ ہے کہ تباہ شدہ عمارت میں سے تین شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں۔
اس خونریز جھڑپ میں دو نیم فوجی اہلکار، دو افسروں سمیت تین بھارتی فوجی اور ایک شہری بھی مارا گیا۔
حتمی آپریشن کے دوران عمارت کی آخری منزل پر راکٹ اور مارٹر گولے پھینکےگئے جس کی وجہ سے عمارت میں آگ لگ گئی۔
پچاس کمروں والی اس عمارت کو ابھی تک محفوظ قرار نہیں دیا گیا ہے اور فوج اسلحہ و گولہ بارود کی تلاش کر رہی ہے۔
شدت پسندوں نے جس سرکاری عمارت پر قبضہ تھا وہ چند سال قبل نئےصنعت کاروں کی حوصلہ افزائی اور مالی معاونت کے لیے حکومت نے ’انٹرپرینور انسٹٹیوٹ‘ نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP
زعفران کی کاشت کے لیے دنیا بھر میں مشہور پام پورہ علاقے میں طویل تصادم کے بعد یہ عمارت تقریباً تباہ ہو گئی ہے۔
کئی برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ تین روز تک مسلح شدت پسندوں نے سینکڑوں کی تعداد میں فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو تصادم میں الجھائے رکھا ہے۔
کشمیر میں مسلح شدت پسندی میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب نریندر مودی کی حکومت کے خلاف عوامی حلقوں میں کافی غم و غصہ ہے۔
پیر کو ایک پریس کانفرنس کے دوران حریت کانفرنس کے رہنما شبیر شاہ نے بتایا: ’ہم تو مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے ہیں، لیکن جب حکومت ہند طاقت کے نشے میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغن لگاتی ہے، تو نوجوان بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔‘
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما محبوبہ مفتی نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں بتایا: ’یہ ایک بہیمانہ حملہ ہے جس میں معصوموں کی جان ضائع ہوگئی۔ معاملات کو بندوق یا تشدد سے نہیں بلکہ بات چیت سے حل کرنا ہوگا۔‘
بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ کشمیر میں گذشتہ دو ماہ میں 28 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ جنرل ستیش دُوا کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس لائن آف کنٹرول کو عبور کرنے کی چھ سو کوششیں کی گئیں لیکن دراندازوں کو یا تو ایل او اسی پر ہی ہلاک کیا گیا یا پھر وہ کشمیر میں مختلف جھڑپوں کے دوران مارے گئے۔







