جے این یو کے روپوش طلبا منظر عام پر آگئے

طالب علم رہنما کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد دہلی اور بھارت کی دیگر یونیورسٹیوں میں احتجاج اور ہنگامے شروع ہوگئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطالب علم رہنما کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد دہلی اور بھارت کی دیگر یونیورسٹیوں میں احتجاج اور ہنگامے شروع ہوگئے تھے

بھارت کے دارالحلومت دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں احتجاج کرنے کے بعد غداری کے مقدمے کا سامنا کرنے والے پانچ بھارتی طلبا دوبارہ منظر عام پر آگئے ہیں۔

ان طلبا پر نو فروری کو کشمیری شخص محمد افضل گرو کو پھانسی دیے جانے کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھارت مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے۔

اس احتجاج کے بعد پولیس نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی طلبا یونین کے سربراہ کنہیا کمار کو غداری کے مقدمے گرفتار کرلیا لیکن ساتھ ہی دیگر پانچ منتظمین کے نام بھی جاری کیے۔

کنہیا کمار کی گرفتاری کے بعد دہلی اور بھارت کی دیگر یونیورسٹیوں میں احتجاج اور ہنگامے شروع ہوگئے۔

حکومت نے ان طلبا کو بھارت مخالف عناصر قرار دیا ہے اور اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے انھیں سزا دینے کا عہد کیا ہے، لیکن ناقدین نے ان الزامات کو آزادی اظہار پر حملہ کہتے ہوئے رد کردیا ہے۔

ان پانچ طلبا میں عمر خالد، انربان بھٹا چاریا، اشوتوش کمار، اننت پراکاش نارائن، رضی الحق، اور رامام ناگا شامل ہیں، جو پولیس کی جانب سے الزامات لگائے جانے کے بعد سے روپوش تھے۔

خبروں کے مطابق اتوار کی رات وہ یونیورسٹی میں واپس آگئے اور دیگر طلبا سے خطاب کیا۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کےمطابق ان کی واپسی کی خبر سنتے ہی پولیس جواہر لال نہرو یونیورسٹی پہنچ گئی لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کو یونیورسٹی میں داخل ہونے اور ان طلبا کو گرفتار کرنے کے لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ کی اجازت درکار ہے۔

حکومت نے طلبا کو بھارت مخالف عناصر قرار دیا ہے اور اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے انھیں سزا دینے کا عہد کیا ہے
،تصویر کا کیپشنحکومت نے طلبا کو بھارت مخالف عناصر قرار دیا ہے اور اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے انھیں سزا دینے کا عہد کیا ہے

کنہیا کمار کی عدالت میں پیشی کے دوران وکیلوں کے ایک گروہ کی جانب سے ان کو زدوکوب کرنے کے واقعے کے بعد عوامی احتجاج میں مزید اضافہ ہوگیاہے۔

کنہیا کمار کی گرفتاری اور ان کے ساتھ نازیبا سلوک کے بعد بھارت کے طول و عرض میں طالب علموں کے احتجاج میں تیزی آئی ہے اور وہ بھارت کے جنوبی شہر چنائے سے لے کر مشرقی شہر کولکتہ تک پرتشدد تصادم میں شامل ہوگئے ہیں۔

افضل گرو کو 2001 میں بھارتی پارلینٹ پر حملہ کرنے کے الزام میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ افضل گرو نے ہمیشہ ان الزامات سے انکار کیا ہے۔ اس حمےمیں کشمیری مسلح گرو ملوث تھے، جس کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گرو کو 2013میں پھانسی دے دی گئی جس کے بعد کشمیرمیں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا، جن میں ان کو ایک شہید کا درجہ دیا گیا اور بھارتی سرکار کی ناانصافی کی مثال کہا جانے لگا۔

لیکن بھارت کے کئی سیاست دان گرو کی پھانسی کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھارت مخالف نعرے لگائے جانے پر اشتعال میں آگئے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حالیہ سالوں میں بھارت میں غداری کے مقدمات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اور کئی طلبا اس تازہ واقعے کو ان کے اختلاف رائے کے حق پر حملہ تصور کرتے ہیں۔