جے این یو معاملہ: ’ضمانت کے لیے ہائی کورٹ جائیں‘

کنہیا کمار کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا اور عدالت میں اس معاملے پر سماعت کے دوران ان پر سختگیر نظریات کے حامل وکلا نے عدالت میں ہی حملہ کیا جس میں انھیں چوٹیں آئی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنکنہیا کمار کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا اور عدالت میں اس معاملے پر سماعت کے دوران ان پر سختگیر نظریات کے حامل وکلا نے عدالت میں ہی حملہ کیا جس میں انھیں چوٹیں آئی ہیں

بھارتی سپریم کورٹ نے ملک کی معروف یونیورسٹی جواہر لعل یونیورسٹی میں طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کی ضمانت کی درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا ہے۔

کنہیا کمار کے وکلا نے ان کے تحفظ کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضمانت کی عرضی دائر کی تھی۔

کنہیا کمار کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا گيا تھا اور عدالت میں اس معاملے پر سماعت کے دوران ان پر سخت گیر نظریات کے حامل وکلا نے عدالت میں ہی حملہ کیا جس میں انھیں چوٹیں آئی ہیں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کنہیا کمار کے وکلا کی ٹیم میں شامل ورندا گروور نے کہا کہ وہ جمعے کو دوپہر بعد دہلی ہائی کورٹ سے کیس کی ترجیحی بنیاد پر سماعت کی اپیل کریں گی۔

جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا کا یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے
،تصویر کا کیپشنجواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبا کا یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اگر اس نے اس درخواست پر سماعت کی تو دوسری عدالتوں کے لیے غلط پیغام جائے گا کہ وہ اس طرح کے معاملات میں فیصلہ کرنے کی اہل نہیں ہیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ پٹیالہ ہاؤس کی عدالت کنہیا کمار کی ضمانت کی عرضی کی سماعت نہیں کر سکتی اور اس درخواست کی سماعت کے لیے صحیح جگہ ہائی کورٹ ہو گی۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ پٹیالہ ہاؤس عدالت میں سکیورٹی کا نظام مناسب نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کنہیا کمار اور ان کے وکلا کی حفاظت کو یقینی بنانے کی بھی ہدایات جاری کی ہیں۔

ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کنہیا کمار کی ضمانت کی عرضی جمعرات کو سینیئر وکیل سولی جے سورابجي اور راجو رام چندرن نے دائر کی تھی۔

کنہیا کے وکیل جمعرات ہی کو اس پر سماعت چاہتے تھے لیکن عدالت نے جمعے کو سماعت کا مشورہ دیا تھا۔

ادھر جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طلبہ کی یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس میں یونیورسٹی کے اساتذہ بھی شامل ہیں۔

سٹوڈنٹ یونین کا کہنا ہے کہ ’جب تک کنہیا کمار کو رہا نہیں کیا جاتا، یونیورسٹی میں کسی طرح کا کوئی کام نہیں ہونے دیا جائے گا۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ دنوں یونیورسٹی کیمپس میں کشمیری شہری افضل گورو کی پھانسی کی برسی پر منعقدہ ایک پروگرام کے بعد تنازع کھڑا ہو گيا تھا اور پولیس نے طلبہ یونین کے صدر کو حراست میں لے لیا تھا۔