بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کے وزیراعلیٰ مفتی سعید کا انتقال

- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے 80 سالہ وزیراعلیٰ مفتی سعید شدید علالت کے بعد دہلی میں انتقال کر گئے ہیں۔
انھیں پھیپھڑوں میں انفیکشن کے بعد 24 دسمبر کو نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کروایا گیا تھا۔
اس کے علاوہ انھیں بلند فشار خون اورگردوں اور جگر کے امراض کا بھی سامنا تھا۔
ڈاکٹروں کے مطابق بدھ کو ان کی طبعیت زیادہ بگڑنے کے بعد انھیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا تھا جہاں وہ جمعرات کو چل بسے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مفتی سعید کی موت کو ’قومی نقصان‘ قرار دیا ہے جبکہ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں جمعرات کو عام تعطیل اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
مفتی سعید کی میت کو سرکاری اہتمام کے ساتھ دہلی سے سرینگر لایا جا رہا ہے جہاں سے سے انہیں تدفین کے لیے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں ان کے آبائی قصبہ بیج بہاڈہ لے جایا جائے گا۔
مفتی سعید 12 جنوری سنہ 1936 کو ایک جاگیردار گھرانے میں پیدا ہوئے تھے اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لے کر انھوں نے کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کی تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اندرا گاندھی نے انھیں کشمیر میں کانگریس کی کمان سونپی تھی اور دہلی میں سیاسی جلاوطنی کے دوران انھوں نے مسلم خطوں میں انتخابات جیتے اور جنتا دل کے دور حکومت میں بھارت کے پہلے مسلمان وزیرداخلہ بن گئے۔
ایک عرصے تک جاری رہنے والے سیاسی سنیاس کے بعد مفتی کشمیر لوٹے تو پارٹی کے قیام کے صرف تین سال بعد وہ 2 نومبر سنہ 2002 کو جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ بنے۔

،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ برس یکم مارچ کو مفتی سعید نے دوسری مرتبہ جموں و کشمیر کے وزیراعلی کا عہدہ سنبھالا تھا لیکن اقتدار کی سالگرہ سے پہلے ہی وہ علیل ہوگئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ مفتی محمد سعید اپنی 55 سالہ سیاسی زندگی کے دوران کشمیر کے سیاسی منظر پر صرف گذشتہ 13 سال سے سرگرم تھے۔
اس عرصے میں انھوں نے 84 سال پرانی جماعت نیشنل کانفرنس کی سیاسی ساکھ کے مقابلے ایک متوازی سیاست کو پروان چڑھایا۔
مفتی سعید کی دو بیٹیاں محبوبہ مفتی، ڈاکٹر رُوبیہ سعید اور ایک بیٹا تصدق مفتی ہیں۔ان میں سے صرف محبوبہ مفتی سیاست میں ہیں جن کی مفتی سعید کی جانشین کے طور پر ریاست کی وزیرِ اعلیٰ بننے کی خبریں گرم ہیں۔
واضح رہے کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس 18 جنوری سے شروع ہورہا ہے اور اس سے قبل نئے وزیراعلی کی حلف برداری ایک آئینی مجبوری ہے۔
50 سالہ محبوبہ فی الوقت بھارتی پارلیمان کی رکن ہیں۔ وہ گذشتہ 20 سال سے کشمیر کی مقامی سیاست میں سرگرم ہیں۔
قریب قریب طے ہے کہ وہی مفتی سعید کی سیاسی جانشین اور گذشتہ 40 سال میں کشمیر کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ ہوں گی۔
لیکن اس بارے میں ابھی پی ڈی پی کی اتحادی بے جے پی نے کوئی واضح موقف اختیار نہیں کیا ہے۔







