’کشمیر تو پہلے سے ہی بھارتی فوج کے قبضے میں ہے‘

- مصنف, فیصل محمد علی
- عہدہ, بی بی سی، دہلی
بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں حالیہ انتخابات میں کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں مل سکی اور حکومت سازی میں تعطل برقرار ہے۔
جمعے کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جس وقت گورنر راج کا اعلان ہوا اس وقت علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی وادی میں نہیں بلکہ دہلی میں تھے۔
منقسم مینڈیٹ، صوبے کے دو حصوں میں آنے والے دو بالکل مختلف قسم کے نتائج اور سیاسی جماعتوں بطور خاص پر بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان جاری زبردست مول تول کے علاوہ جس بات نے ریاست میں حکومت سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا وہ سید علی گیلانی کا بیان تھا۔
لیکن سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ صوبے میں چاہے گورنر راج ہو یا پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
چند دن قبل انھوں نے پی ڈی پی کو بی جے پی سے ممکنہ اتحاد پر متنبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہPDP PRO
حریت رہنما نے ایک بیان میں کہا تھا: ’اگر ریاست ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جاتا ہے جن کے نظریات فاسشٹ ہیں تو اس سے کرو یا مرو والے حالات پیدا ہو جائیں گے۔‘
بیان میں کہا گیا تھا: ’لوگوں کی زندگی، جائیداد، مذہب اور ثقافت سب کچھ پر خطرہ منڈلائے گا۔ کشمیر کا استعمال ’گھر واپسی‘ اور ’بیٹی بچاؤ اور بہو لاؤ‘ جیسے پروجكٹس کی لیبارٹری کے طور پر کیا جائے گا۔‘
جنوبی دہلی کے نچلے متوسط علاقے کھڑکی ایکسٹنشن کے ایک تنگ کمرے میں موجود گیلانی سے جب گورنر راج کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’کشمیر ویسے بھی گذشتہ 60 سے زیادہ سالوں سے بھارتی فوج کے قبضے میں ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ کہا کہ لوگ روز مرہ کے مسائل کے حل اور اس میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے ووٹ دیتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہPDP PRO
جس دن گیلانی کا بیان جاری ہوا اسی دن متحدہ جہاد كونسل اور شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین کی جانب سے بھی ایک بیان جاری ہوا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کشمیر کے لوگوں کو بھارت سے کبھی بھی کسی طرح کی کوئی امید نہیں رہی اور اب حکومت کا خوفناک چہرہ سامنے آئے گا جب وہ سب سے فرقہ پرست، سخت کشمیر اور مسلم مخالف پارٹی بی جے پی کی مدد سے تیار ہوگی۔‘
اس اتفاق پر کہ حزب اور ان کے بیان ایک ہی دن ہی جاری ہوئے گیلانی نے کہا کہ ان کا ’تعلق کسی بھی بیرونی تنظیم سے نہیں اور وہ جو بیان جاری کرتے ہیں وہ وقت اور حالات کو ذہن میں رکھ کر جاری کیے جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بدھ کو ہی حریت کے ایک دوسرے دھڑے کے رہنما شبیر شاہ کی طرف سے بھی کہا گیا کہ ’مفتی محمد سعید اقتدار کے لالچ میں کشمیر اور مسلم مخالف بی جے پی سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔‘
ان تمام بیانات نے پی ڈی پی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔
دراصل انتخابات کے نتائج آنے کے کچھ دن بعد سے ہی صوبے میں سیاسی دباؤ کا کھیل جاری ہے۔
23 دسمبر کے چند دنوں بعد ہی سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کو حکومت سازی میں تعاون دینے کا آفر دے کر مفتی محمد سعید پر نفسیاتی دباؤ کی پہل کر دی تھی۔

،تصویر کا ذریعہMukesh Gupta
اب وہ اپنے ٹویٹ کے ذریعہ پی ڈی پی کی نہ صرف حکومت نہ بنا پانے کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ان کی حمایت نہ لینے کے لیے بھی طنز کر رہے ہیں۔
بھارت اور پاکستان کنٹرول لائن پر جاری فائرنگ اور عام لوگوں کی نقل مکانی پر بھی انھوں نے ایک پیغام جاری کر دیا جسے پی ڈی پی نے دوسروں کے دکھ درد پر خوشیاں منانے کے مترادف قرار دیا۔
عبداللہ کے ٹوئیٹ ’مفتی کا پاکستان کے ساتھ جلد از جلد بات چیت کا خواب ٹوٹ رہا ہے‘ جیسے پیغامات نے بی جے پی کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں جو پاکستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی زبان میں بات کرتی رہی ہے۔







