’کشمیر تو پہلے سے ہی بھارتی فوج کے قبضے میں ہے‘

گورنر راج کے بارے میں سید علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ’کشمیر ویسے بھی گذشتہ 60 سے زیادہ سالوں سے بھارتی فوج کے قبضے میں ہے‘
،تصویر کا کیپشنگورنر راج کے بارے میں سید علی شاہ گیلانی کا کہنا ہے کہ ’کشمیر ویسے بھی گذشتہ 60 سے زیادہ سالوں سے بھارتی فوج کے قبضے میں ہے‘
    • مصنف, فیصل محمد علی
    • عہدہ, بی بی سی، دہلی

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں حالیہ انتخابات میں کسی ایک جماعت کو اکثریت نہیں مل سکی اور حکومت ‎سازی میں تعطل برقرار ہے۔

جمعے کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں جس وقت گورنر راج کا اعلان ہوا اس وقت علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی وادی میں نہیں بلکہ دہلی میں تھے۔

منقسم مینڈیٹ، صوبے کے دو حصوں میں آنے والے دو بالکل مختلف قسم کے نتائج اور سیاسی جماعتوں بطور خاص پر بی جے پی اور پی ڈی پی کے درمیان جاری زبردست مول تول کے علاوہ جس بات نے ریاست میں حکومت سازی کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا وہ سید علی گیلانی کا بیان تھا۔

لیکن سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ صوبے میں چاہے گورنر راج ہو یا پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، کانگریس یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کی حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔

چند دن قبل انھوں نے پی ڈی پی کو بی جے پی سے ممکنہ اتحاد پر متنبہ کیا تھا۔

اسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کو سب سے زیادہ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں

،تصویر کا ذریعہPDP PRO

،تصویر کا کیپشناسمبلی انتخابات میں پی ڈی پی کو سب سے زیادہ سیٹیں حاصل ہوئی ہیں

حریت رہنما نے ایک بیان میں کہا تھا: ’اگر ریاست ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جاتا ہے جن کے نظریات فاسشٹ ہیں تو اس سے کرو یا مرو والے حالات پیدا ہو جائیں گے۔‘

بیان میں کہا گیا تھا: ’لوگوں کی زندگی، جائیداد، مذہب اور ثقافت سب کچھ پر خطرہ منڈلائے گا۔ کشمیر کا استعمال ’گھر واپسی‘ اور ’بیٹی بچاؤ اور بہو لاؤ‘ جیسے پروجكٹس کی لیبارٹری کے طور پر کیا جائے گا۔‘

جنوبی دہلی کے نچلے متوسط علاقے کھڑکی ایکسٹنشن کے ایک تنگ کمرے میں موجود گیلانی سے جب گورنر راج کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا: ’کشمیر ویسے بھی گذشتہ 60 سے زیادہ سالوں سے بھارتی فوج کے قبضے میں ہے۔‘

بی بی سی سے بات چیت کے دوران انہوں نے یہ کہا کہ لوگ روز مرہ کے مسائل کے حل اور اس میں آسانی پیدا کرنے کی غرض سے ووٹ دیتے ہیں۔

مفتی محمد سعید پر مختلف جہات سے دباؤ ہے

،تصویر کا ذریعہPDP PRO

،تصویر کا کیپشنمفتی محمد سعید پر مختلف جہات سے دباؤ ہے

جس دن گیلانی کا بیان جاری ہوا اسی دن متحدہ جہاد كونسل اور شدت پسند تنظیم حزب المجاہدین کے چیف سید صلاح الدین کی جانب سے بھی ایک بیان جاری ہوا۔

بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کشمیر کے لوگوں کو بھارت سے کبھی بھی کسی طرح کی کوئی امید نہیں رہی اور اب حکومت کا خوفناک چہرہ سامنے آئے گا جب وہ سب سے فرقہ پرست، سخت کشمیر اور مسلم مخالف پارٹی بی جے پی کی مدد سے تیار ہوگی۔‘

اس اتفاق پر کہ حزب اور ان کے بیان ایک ہی دن ہی جاری ہوئے گیلانی نے کہا کہ ان کا ’تعلق کسی بھی بیرونی تنظیم سے نہیں اور وہ جو بیان جاری کرتے ہیں وہ وقت اور حالات کو ذہن میں رکھ کر جاری کیے جاتے ہیں۔‘

بی جے پی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر پہلی بار ابھری ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبی جے پی دوسری بڑی پارٹی کے طور پر پہلی بار ابھری ہے

بدھ کو ہی حریت کے ایک دوسرے دھڑے کے رہنما شبیر شاہ کی طرف سے بھی کہا گیا کہ ’مفتی محمد سعید اقتدار کے لالچ میں کشمیر اور مسلم مخالف بی جے پی سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔‘

ان تمام بیانات نے پی ڈی پی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔

دراصل انتخابات کے نتائج آنے کے کچھ دن بعد سے ہی صوبے میں سیاسی دباؤ کا کھیل جاری ہے۔

23 دسمبر کے چند دنوں بعد ہی سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے پی ڈی پی کو حکومت سازی میں تعاون دینے کا آفر دے کر مفتی محمد سعید پر نفسیاتی دباؤ کی پہل کر دی تھی۔

عمر عبداللہ اپنے ٹوئیٹ سے سیاست کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہMukesh Gupta

،تصویر کا کیپشنعمر عبداللہ اپنے ٹوئیٹ سے سیاست کر رہے ہیں

اب وہ اپنے ٹویٹ کے ذریعہ پی ڈی پی کی نہ صرف حکومت نہ بنا پانے کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ ان کی حمایت نہ لینے کے لیے بھی طنز کر رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کنٹرول لائن پر جاری فائرنگ اور عام لوگوں کی نقل مکانی پر بھی انھوں نے ایک پیغام جاری کر دیا جسے پی ڈی پی نے دوسروں کے دکھ درد پر خوشیاں منانے کے مترادف قرار دیا۔

عبداللہ کے ٹوئیٹ ’مفتی کا پاکستان کے ساتھ جلد از جلد بات چیت کا خواب ٹوٹ رہا ہے‘ جیسے پیغامات نے بی جے پی کے لیے بھی مشکلات پیدا کی ہیں جو پاکستان کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے والی زبان میں بات کرتی رہی ہے۔