کشمیر میں حکومت قائم کرنے کی کوشش ناکام، گورنر راج نافذ

،تصویر کا ذریعہGetty
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مخلوط حکومت قائم کرنے کے لیے خفیہ اور اعلانیہ مذاکرات کی تمام کوششیں ناکام ہونے کے بعد ریاست کے گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے انتظامیہ کی کمان سنبھال لی ہے۔
گورنر راج کی مدت زیادہ سے زیادہ چھ ماہ ہوتی ہے۔ اس دوران اگر سیاسی جماعتوں کے درمیان کوئی اتحاد سامنے آیا تو حکومت قائم ہو گی ورنہ چھہ ماہ بعد ازسرنو انتخابات کا اعلان ہوگا۔
گذشتہ 37 سال میں یہ چھٹا موقع ہے جب کشمیر میں سیاسی عدم استحکام کے باعث ریاست کے گورنر نے انتظامیہ کی کمان سنبھال لی ہے۔
حالیہ انتخابات گذشتہ برس نومبر اور دسمبر میں سخت سردی اور سیلاب سے پیدا شدہ صورتِ حال کے پس منظر میں منعقد ہوئے تھے۔
87 رکنی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو 44 کی مطلوب اکثریت نہیں ملی۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کو جموں کی 37 میں سے 25 اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو وادی اور لداخ کی 50 میں سے 28 سیٹیں ملی تھیں۔ حکمران نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو بالترتیب 15 اور 12 نشستوں پر کامیابی ملی۔
جمعرات کو وزیراعلیٰ عمرعبداللہ مستعفی ہوکر چھٹیاں منانےکے لیے کرغزستان روانہ ہوگئے تو یہاں کے گورنر نے بھارتی صدر سے گورنر راج نافذ کرنے کی سفارش کی۔
اطلاعات کے مطابق صدر پرناب مکھرجی نے کشمیر کے آئین کی دفعہ 92 کے تحت کی گئی سفارش منظور کر لی ہے اور اس طرح اب کشمیر عملاً براہ راست نئی دہلی کے انتظامی کنٹرول میں چلا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہندوقوم پرست جماعت بی جے پی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی یا پی ڈی پی کے ساتھ سیاسی اتحاد پر آمادہ تھی۔ دونوں کی نشستیں ملا کر 53 کا عدد بنتا ہے جو 44 کی مطلوب اکثریت سے زیادہ ہے۔ دونوں کے درمیان پس پردہ اور اعلانیہ مذاکرات ہوئے، لیکن نظریاتی تضاد کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھ سکی۔
جہاں پی ڈی پی بھارت اور پاکستان کے درمیان مفاہمت، سرحدوں پر امن اور کشمیر سے فوجی قوانین کا خاتمہ چاہتی ہے وہیں بی جے پی کشمیریوں سے خود حکمرانی کا حق واپس لینا چاہتی ہے اور فوجی قوانین کا دفاع کرتی ہے۔
مقامی علیحدگی پسند جماعتوں کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ بی جے پی مسلم اکثریتی جموں کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے خطرناک منصوبے پر عمل کررہی ہے۔
واضح رہے بی جے پی نے کشمیر میں اس بار حکومت بنانے کو اپنا سیاسی مشن بنایا تھا لیکن انتخابات کے نتائج اس قدر پیچیدہ تھے کہ 12 روز گزرنے کے بعد بھی 25 نشستیں لینے کے باوجود اقتدار کا خواب پورا نہِیں ہوا۔







