کشمیر: سرحدوں پر پھر تناؤ

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں انتخابات کے نتائج غیر یقینی تھے لیکن حکومت سازی میں تاخیر کے بیچ سرحدوں پر تناؤ کے باعث خطے میں ایک بار پھر کشیدگی کا ماحول ہے۔
دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان گذشتہ کئی روز سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں اب تک پاکستان کی جانب دو اہلکاروں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا جبکہ بھارت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک 14 سالہ لڑکی اور تین فوجی مارے گئے۔
بھارتی کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ مسلسل فائرنگ کے پیش نظرجموں کے سرحدی خطوں میں رہائش پذیر شہریوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے۔
گذشتہ سال اکتوبر اور نومبر میں بھی سرحدی خطوں میں فائرنگ کے تبادلے کی وجہ سے تناؤ رہا جس کے باعث ہزاروں لوگوں کو گھر چھوڑ کر عارضی کیمپوں میں رہنا پڑا۔ سرحدوں پر تناؤ کی وجہ سے بھارت نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کو بھی معطل کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان نے فائرنگ کے حالیہ واقعات کے بعد اسلام آباد میں بھارتی سفارتخانہ میں رسمی احتجاج بھی درج کرایا ہے اور پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کےمشیر برائے سلامتی سرتاج عزیز نے بھارتی حکام کو ایک خط کے ذریعہ ’بھارتی جارحیت‘ سے آگاہ کیا ہے۔
تاہم سنیچر کو بھارت کی وزیرخارجہ سشما سوراج نے جوابی خط میں پاکستان پر واضح کیا ہے کہ سرحدوں پر فائرنگ کی ابتدا ہمیشہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ہوتی ہے۔
دریں اثنا جموں اور کشمیر خطوں میں انتظامیہ نے بتایا کہ اکھنور اور سامبا ضلعوں کے سرحدی خطوں کے بوبیان، پنسار، پہاڑ پور اور لچھی پورہ علاقوں سے شہریوں کو ہٹا کر محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا گیا ہے۔
غور طلب ہے پچھلے سال اکتوبر اور نومبر میں بھی دونوں افواج کے درمیان سرحدوں پر تناؤ پیدا ہوا جس کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بھارت اور پاکستان سے امن بحال کرنے کی اپیل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے بعد بھارتی بی ایس ایف اور پاکستانی رینجرز کے سیکڑ کمانڈروں کے درمیان فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر تناو ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
یاد رہے 2003 میں اُس وقت کی واجپائی حکومت نے پاکستان کے ساتھ 740 کلومیٹر لمبی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری پر جنگ بندی کا سمجھوتہ کیا تھا لیکن دونوں ممالک اکثر اوقات ایک دوسرے اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے ہِیں۔
دوسری جانب کشمیر کی سرحدوں پر فوجی کشیدگی ایک ایسے وقت دوبارہ پیدا ہوگئی ہے جب یہاں انتخابات میں غیر واضح نتائج کے بعد سیاسی غیر یقینی پائی جاتی ہے۔
87 رکنی اسمبلی میں کسی بھی جماعت کو اکثریت یعنی 44 نشستیں نہیں ملی ہیں۔ حالانکہ ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی کو صرف 25 سیٹیں لے کر دوسرے نمبر پر ہے، لیکن بھارت پر اس جماعت کا اقتدار میں ہونے کے سبب اس کے سربراہ امیت شاہ کا کہنا ہے کہ جموں کشمیر پر بی جے پی کا اقتدار ضروری ہے۔
مفتی محمد سعید کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کو سب سے زیادہ یعنی 28 سیٹیں ملی ہیں۔ دونوں جماعتوں کے درمیان مشترکہ حکومت کا معاہدہ ایک قدرتی امر تھا، لیکن اس میں دونوں کا نظریاتی تضاد آڑے آ رہا ہے۔







