سرحدی کشیدگی سے طلبہ ذہنی تناؤ کا شکار

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر
جموں میں آر ایس پورہ سیکٹر کے فلورا، ابدالیاں اور توہانا دیہات میں تعلیم کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔
فلورا کے سرپنچ سردار جسونت سنگھ ماضی کا تجربہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سرحد پر مسلسل تناؤ کی وجہ سے بچے سکول کے دوران ہی تعلیم ترک کردیتے تھے۔ 11 سال قبل جب سرحدوں پر جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تو وہاں حالات معمول پر آنے لگے تھے لیکن گذشتہ چند ہفتوں سے تازہ کشیدگی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ تعلیم کا نظام ایک بار پھر تعطل کا شکار ہے۔
حکومت نے جموں کے سرحدی علاقوں میں سکول اور کالج بند کرنے کے احکامات صادر کیے ہیں۔ ان سکولوں اور کالجوں کی عمارتوں میں سرحد پر گولہ باری کے شکار کے لوگ اب عارضی طور رہائش پذیر ہیں۔ان میں بچوں اور نوجوانوں کی کثیر تعداد ہے۔
آر ایس پورہ کے پالی ٹیکنک کالج میں 80 خاندانوں کے پانچ سو افراد ہیں جن میں طلبہ و طالبات بھی ہیں۔ اسی کیمپ میں موجود گیارہویں جماعت کے طالب علم لولی سنگھ نے بتایا: ’اب تو سکول بند ہوگیا۔ ہم یہاں پڑھائی کرتے تھے لیکن اب یہاں شور شرابہ ہے۔ ہماری کتابیں گھر پر ہیں، وہاں اب جانے نہیں دیتے، کہتے ہیں گولہ باری ہو رہی ہے۔ اب ہم کیا کریں گے۔ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔‘
لوگوں سے کھچا کھچ بھرے ہال کے ایک کونے میں بیٹھیں راہا کہتی ہیں کہ گھر سے ہجرت اور مسلسل بمباری نے ان کی زندگی کا مقصد ہی تبدیل کر دیا ہے:
’میں تو ڈاکٹر بننا چاہتی تھی، لیکن اب میں ٹیچر بنوں گی۔ بارڈر پر جو سکول ہیں وہاں گولہ باری کے دوران کوئی استاد نہیں آتا۔ میں ایسے ہی سکولوں میں پڑھاؤں گی۔‘
آر ایس پورہ کے ہائر سیکنڈری سکول کو بھی عارضی رہائشی کیمپ میں تبدیلی کر دیا گیا ہے۔ سکولوں میں چھٹی کا اعلان ہونے کے باوجود یہاں کے طلبہ نے سکول میں دھرنا دیا۔ طالب علم اشونی کمار کی قیادت میں درجنوں طلبہ نے امتحانات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا: ’گولہ باری کے بعد بجلی غائب ہوگئی ہے۔ گھر جائیں تو فائرنگ کا ڈر ہوتا ہے اور بجلی بھی نہیں ہوتی۔ کیمپ میں تو پڑھائی نہیں ہوتی۔ کچھ ہی روز میں امتحانات طے ہیں اور حکام نے چھٹی کا اعلان کر دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ امتحانات ملتوی کر دو تاکہ ہمارا تعلیمی سال برباد نہ ہو۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تعلیمی سال ضائع ہونے کی فکر اور دن بھر پناہ گزینوں کی طرح عارضی رہائش گاہوں پر ٹہلتے رہنے سے بچوں میں نفسیاتی دباؤ پیدا ہوگیا ہے۔ سردار جسونت سنگھ کہتے ہیں:
’جب ایک لڑکا یا لڑکی یہ سوچتا ہے کہ اں کی تعلیم پوری نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے، کہ انھیں اچھی نوکری نہیں ملے گی، اور اچھی نوکری نہیں ملی تو ان کی شادی نہیں ہوگی۔ یہ بچے ہر وقت ذہنی تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
مقامی منتظم اشونی کمار کا کہنا ہے کہ طلبہ و طالبات کو ذہنی تناؤ سے بچانے کے لیے عارضی کیمپوں میں ہی پڑھائی کے امکانات تلاش کیے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’ہم نے اس بارے میں مشاورت کی ہے، ہم ان ہی کیمپوں میں عارضی کلاسوں کا اہتمام کریں گے۔‘
ضلع جموں کے سرحدی قصبہ آر ایس پورہ میں داخل ہوتے ہی جنگ کا گمان ہوتا ہے۔ قصبہ کی سڑکیں سنسان ہیں اور باشندے بچوں اور خواتین کو لے کر محفوظ مقامات کی طرف جا رہے ہیں۔
بی ایس ایف اور پولیس کے اہلکار خاصی تعداد میں گشت کرتے نظر آرہے ہیں۔ قصبے کے آرنیہ گاؤں میں خوفناک سناٹا ہے کیونکہ یہ گاؤں لگاتار کئی روز تک شیلنگ کی زد میں رہا اور یہاں کے تقریباً سبھی باشندے گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
کل رات کی شینلگ کے دوران بی ایس ایف کے تین جوان زخمی ہوگئے۔ ابھی تک صرف آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
آر ایس پورہ کی طرح ہی سانبا اور ہیرانگر علاقوں میں بھی سکول اور کالج ویران پڑے ہیں۔
تعلیم ہو یا صحت سرحدوں پر تناؤ کے باعث رفتہ رفتہ یہاں زندگی کے سبھی شعبے متاثر ہو رہے ہیں ۔سیاسی سطح پر بھلے ہی یہ بحث جاری ہو کہ پہلی گولی کون چلا رہا ہے، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ دونوں جانب عام لوگوں کو کس قصور کی سزا دی جا رہی ہے۔







