’بلا اشتعال فائرنگ نہ رکی تو بھرپور جواب دیں گے‘

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی وزیر دفاع نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ اگر کشمیر میں ’بلا اشتعال‘ فائرنگ کا سلسلہ بند نہیں کیا تو اس کا ’بھرپور جواب‘ دیا جائے گا۔
ادھر پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتا۔
بھارتی وزیر دفاع ارون جیٹلی نے دارالحکومت دہلی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر حملے جاری رہے تو بھارت انھیں پاکستان کے لیے ’ناقابلِ برداشت‘ بنا دے گا۔
ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس میں ابھی تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں آٹھ بھارتی شہری اور 11 پاکستانی شامل ہیں۔
سرحد پر کئی دنوں سے کشیدگی جاری ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں.
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ارون جیٹلی نے کہا: ’اگر سرحدوں پر پاکستان امن چاہتا ہے تو اسے بلا اشتعال فائرنگ روکنی ہوگی۔‘
جب بھارتی وزیر دفاع سے پاکستان کی جانب سے شیلنگ کا وجہ دریافت کی گئی تو ان کا کہنا تھا: ’پاکستان کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کی کشیدگی کو اندرونی اور بیرونی سطح پر نوٹس کروایا جائے۔‘
ارون جیٹلی نے الزام لگایا ہے کہ سرحد پر جاری گولہ باری کا مقصد پاکستان کی طرف سے دراندازی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ سیلابوں کے بعد بھارتی فوج نے بڑی تعداد میں دراندازوں کو ہلاک کیا ہے۔
بھارتی وزیر دفاع سے جب پوچھا گیا کہ اب کیوں شیلنگ ہو رہی ہے تو ان کا کہنا تھا: ’اب کیوں؟ یہ سوال مجھ سے نہیں سرحد پار سے پوچھیں۔‘
دوسری جانب کانگریس نے اس معاملے پر وزیر اعظم سے جواب مانگا ہے۔ کانگریس جماعت کے رہنما آنند شرما نے کہا ہے کہ وزیر اعظم انتخابی مہم میں مصروف ہیں اور ان کا دھیان الیکشن جیتنے پر ہے۔
جمعرات کو ایک بیان میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ’ہم دو ایٹمی ہمسایہ ملکوں کے درمیان سرحدی کشیدگی کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔‘
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کی کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے۔
دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے واشنگٹن میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ دوطرفہ مسائل کے حل کی غرض سے مزید مذاکرات کے لیے بھارت اور پاکستان کی حکومتوں کی حوصلہ افزائی جاری رکھے گا۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ کی کشمیر پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔







