مفتی محمد سعید کشمیر کے نئے وزیرِاعلیٰ بن گئے

پی ڈی پی رہنما مفتی محمد سعید نے اتوار کو جموں کشمیر کے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا

،تصویر کا ذریعہPTI

،تصویر کا کیپشنپی ڈی پی رہنما مفتی محمد سعید نے اتوار کو جموں کشمیر کے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف لیا

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں کئی ماہ کے تعطل کے بعد پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما مفتی محمد سعید نے نئے وزیرِاعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔

اتوار کی صبح جموں کے جنرل زورآور سنگھ سٹیڈیم کے آڈیٹوریم میں گورنر اے این ووہرہ نے پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کی حکومت کے سربراہ کے طور پر مفتی محمد سعید سے حلف لیا۔

مفتی سعید کے ساتھ ہی بی جے پی کے رکن اسمبلی نرمل سنگھ نے نائب وزیر اعلی کے عہدے کا حلف اٹھایا۔

اس موقعے پر کابینہ کے کئی دیگر ارکان کی حلف برداری بھی ہوئی۔

حلف برداری کے موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ بی جے پی صدر امت شاہ، سینیئر لیڈر لال کرشن اڈوانی اور اس اتحاد میں اہم کردار ادا کرنے والے رام مادھو بھی موجود تھے۔

وزیر بننے کے بعد سابق علیحدگی پسند رہنما سجاد لون نے کہا کہ ’جموں و کشمیر کے لیے یہ تاریخی دن ہے۔ یہ ریاست کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ اس اتحاد سے ریاست آگے بڑھے گا۔‘

سابق علیحدگی پسند رہنما سجاد لون نے بھی وزارت کے عہدے اور رازداری کا حلف لیا
،تصویر کا کیپشنسابق علیحدگی پسند رہنما سجاد لون نے بھی وزارت کے عہدے اور رازداری کا حلف لیا

انھوں نے پی ڈی پی اور بی جے پی کے بیچ کے نظریاتی فرق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان کسی طرح کا ٹکراؤ نہیں ہوگا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایک ہی بار میں سب کچھ درست کر دینے کی قدرت تو صرف اللہ کے پاس ہی ہے۔‘

سجاد لون سابق علیحدگی پسند ہیں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ دوسرے علیحدگی پسند بھی ان کی طرح جمہوری طریقے سے ریاست کے مسائل کا حل نکالنے کی کوشش کریں گے۔

پی ڈی پی کے نعیم اختر نے کہا ہے کہ ’یہ اتحاد مودی کی ترقی کے دعووں کے دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے اور اس سے ریاست میں ترقی کا نیا راستہ کھل جائے گا۔‘

جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے اس موقعے پر اپنے مخالفین پی ڈی پی کو طنز کا نشانہ بنایا۔

عمر عبداللہ نے پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا

،تصویر کا ذریعہMukesh Gupta

،تصویر کا کیپشنعمر عبداللہ نے پی ڈی پی اور بی جے پی اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا

انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے پی ڈی پی پر تنقید کی۔ انھوں نے لکھا: ’جموں و کشمیر کے آئین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ شیاما پرساد مکھرجی نے کیا تھا، آج پی ڈی پی انھی کی پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت بنا رہی ہے۔ یہ عجیب تضاد ہے!‘

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سمبت پاتر نے کہا کہ ’یہ سیاسی اتحاد ایک نئی ابتدا ہے۔ یہ وزیر اعظم کی ترقی کو نافذ کرنے کی کوشش ہے اور اس سے جموں کشمیر کو فائدہ ہو گا۔‘