کشمیر: مفتی سعید کے لیے’ کانٹوں کا تاج‘

اکثر مبصرین کو خدشہ ہے کہ کشمیر کی نئی اتحادی حکومت مدت کار پوری نہیں کرپائے گی۔
،تصویر کا کیپشناکثر مبصرین کو خدشہ ہے کہ کشمیر کی نئی اتحادی حکومت مدت کار پوری نہیں کرپائے گی۔
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر

انتخابی نتائج کے دو ماہ بعد پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی اور ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مشترکہ حکومت بنا رہے ہیں۔

طویل تاخیر اور مذاکرات کے متعدد ادوار کے بعد ہی سہی، یہ سیاسی معجزہ بالآخر ہو ہی گیا۔

معاہدے کے مطابق مفتی محمد سعید چھ سال کی مدت کے لیے وزیراعلیٰ کا حلف ہفتے کو جموں میں اٹھائیں گے اور دونوں جماعتوں کی طرف سے 12 وزیر ان کی کابینہ تشکیل دیں گے۔

اقتدار کی سیاست میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ عیاں طور پر متضاد نظریات کی حامل جماعتیں مشترکہ حکومت پر آمادہ ہوجائیں۔

دلچسپ امر ہے کہ گذشتہ برس کشمیر میں جب انتخابات ہوئے تو پی ڈی پی سمیت سبھی سیاسی گروپوں اور سماجی حلقوں نے لوگوں سے کہا کہ بی جے پی کی فرقہ وارانہ سیاست کو دیکھتے ہوئے اسے اقتدار سے دور رکھنا کشمیریوں کا ’قومی مفاد‘ ہے۔

نیشنل کانفرنس کی عدم مقبولیت کے علاوہ اسی ’قومی مفاد‘ کے نام پر لوگوں سے ووٹ طلب کیے گئے۔

کشمیر اور جموں کی مسلم آبادی نے پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس اور بعض آزاد امیدواروں کو منتخب کیا، لیکن ہندو اکثریتی علاقوں مِیں لوگوں نے من جملہ بی جے پی کو ووٹ دیا۔

کچھ حلقے کہتے ہیں کہ کشمیر کی مسلم آبادی نے سیکولر رجحان ظاہر کیا جبکہ ہندو آبادی نے مذہبی جذبات کے تحت ووٹ دیا۔

لیکن نتائج سامنے آتے ہی پی ڈی پی اور بی جے پی کے درمیان گفت و شنید شروع ہوگئی اور یہاں کے سماجی اور سیاسی حلقوں نے اس ’انوکھے اتحاد‘ کے خلاف مہم بھی چلائی۔

بھارت کے معروف کالم نویس عبدالغفور نورانی نے ایک قسط وار مضمون میں پی ڈی پی کو خبردار کیا کہ وہ بی جے پی کے ساتھ الائنس کر کے اس پارٹی کو کشمیر میں اعتباریت دلا رہی ہے جو خطرناک مستقبل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے تو اس فیصلے کو ’سودے بازی‘ قرار دیا جس پر پی ڈی پی نے کہا کہ عبداللہ خانوادے نے ’بیچنے کے لیے کچھ چھوڑا ہی نہیں تھا۔‘

ان کے علاوہ علیحدگی پسندوں نے بھی اس اتحاد پر تحفظات کا اظہار کیا اور لبریشن فرنٹ کے رہنما محمد یاسین ملک نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ ’یہ ایک چال تھی جس میں ہم پھنس گئے۔ کشمیریوں کے سامنے بی جے پی کو بھوت بنا کر پیش کیا گیا، لوگوں نے بھوت بھگانے کے لیے ووٹ دیا۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ نئی دہلّی نے ہم کو مات دے دی ہے۔‘

الیکشن میں کشمیر اور جموں کی مسلم آبادی نے پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس اور بعض آزاد امیدواروں کو منتخب کیا، لیکن ہندواکثریتی علاقوں مِیں لوگوں نے من جملہ بی جے پی کو ووٹ دیا۔
،تصویر کا کیپشنالیکشن میں کشمیر اور جموں کی مسلم آبادی نے پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس اور کانگریس اور بعض آزاد امیدواروں کو منتخب کیا، لیکن ہندواکثریتی علاقوں مِیں لوگوں نے من جملہ بی جے پی کو ووٹ دیا۔

یاسین ملک کا کہنا تھا کہ انقلابیوں کو شکست ہوتی ہے تو تاریخ انہیں دوبارہ موقع دیتی ہے،’'لیکن جب ہم بھارت کو مات دیں گے، تو اسے دوسرا موقع نہیں ملے گا۔‘

قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی نے جن شرائط پر بی جے پی کے ساتھ شراکت اقتدار کا معاہدہ کیا ہے، ان میں فوجی قوانین کا خاتمہ، کشمیر کو بھارتی آئین کے تحت خصوصی پوزیشن یعنی دفعہ 370 کی برقراری، پاکستان اور علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات، پاور پروجیکٹس کی واپسی اور فراخدلانہ مالی امداد شامل ہیں۔

واضح رہے 1947 میں ہزاروں ہندو خاندان پاکستان سے ہجرت کر کے جموں میں پناہ گزین ہوئے تھے اور بی جے پی انہیں کشمیری شہریت دینے کا وعدہ کر چکی ہے لیکن علیحدگی پسند اور دوسرے سماجی حلقے اسے کشمیر میں مسلم آبادی کے تناسب کو کم کرنے کی سازش قرار دے رہے ہیں۔

پی ڈی پی کے ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا:’بی جے پی کی شبیہ خطرناک ہے۔ سب لوگ واویلا کرتے تھے، لیکن مفتی صاحب نے بلی کے گلے میں گھنٹی باندھ لی۔‘

لیکن مفتی سعید کے سیاسی حریفوں کا کہنا ہے کہ ’جب بلی سر ہلائے گی تو گھنٹی کے شور سے بلی نہیں بلکہ چوہے ہی خوفزہ ہوں گے !‘

سیاسی یا نظریاتی تناظر جو بھی ہو، دیکھنا یہ ہے کہ کشمیر میں موجود حساس سیاسی، سماجی اور اقتصادی مسائل کے انبار پر بننے والی یہ حکومت کشمیر میں انتظامی اصلاحات اور تعمیر و ترقی کے لیے کس قدر عوامی حمایت حاصل کر پائے گی؟

صحافی شفاعت فاروق کہتے ہیں ’ کشمیر میں تو حکومت بنتی ہے، لیکن بااختیار نہیں ہوتی ہے۔ یہاں حکومت ہند کی نگرانی والے اداروں کا عملاً راج ہے۔ یہاں امرناتھ اور وشنودیوی کی یاترا کے لیے بااختیار بورڈ ہیں، جو یاترا کی مدت کا فیصلہ خود کرتے ہیں۔ یہاں حکومت ہند کی شمالی پاور کارپوریشن یعنی این ایچ پی سی ہے، جو بڑے فیصلوں کے لیے حکومت کی محتاج نہیں ہے۔ یہاں فوج ہے جو نہ صرف آزاد ہے بلکہ اسے قانونی تحفظ حاصل ہے۔ مفتی صاحب الہ دین کا چراغ لائیں گے کہاں سے؟‘

اکثر مبصرین کو خدشہ ہے کہ یہ حکومت مدت کار پوری نہیں کرپائے گی۔ وہ مفتی سعید کے 40 سالہ سیاسی کیریئر کی مثال دیتے ہیں۔ میرٹھ میں ہوئے مسلم کش فسادات میں مفتی سعید نے بھارتی کابینہ سے استعفی دیا ، اس کے بعد انہوں نے کانگریس کو ترک کے اپنی تنظیم بنالی۔ 2002 میں اسی کانگریس کے ساتھ مشترکہ حکومت بنالی، مدت پوری ہونے سے قبل انہوں نے حمایت واپس لے لی۔

محقق ارشاد احمد کہتے ہیں، ’ویسے بھی یہ مفتی سعید کے لیے کانٹوں کا تاج ہے کیونکہ بی جے پی ہندو آبادی کو خوش کرنے کے لیے جو کچھ بھی کرے گی اس کا بوجھ مفتی سعید کے ہی کاندھوں پر آئے گا اس لیے نریندر مودی کے لیے یہ واقعی خوشی کا مقام ہے۔‘