چین: خفیہ راز افشاں کرنے کا الزام، صحافی گاؤ یو کی سزا برقرار

معروف تفتیشی صحافی کو کمیونسٹ پارٹی کے ایک اندرونی دستاویز کو امریکہ میں چینی زبان کی ایک ویب سائٹ، منگجنگ نیوز، کو بھیجنے کا قصورا ٹھہرایا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنمعروف تفتیشی صحافی کو کمیونسٹ پارٹی کے ایک اندرونی دستاویز کو امریکہ میں چینی زبان کی ایک ویب سائٹ، منگجنگ نیوز، کو بھیجنے کا قصورا ٹھہرایا گیا تھا

چین کی ایک اعلیٰ عدالت نے ملک کی ایک سینیئر صحافی کو عدالت کی جانب سے قصوروار قرار دیے جانے کی سزا کو درست قرار دیا ہے جن پر حکومت کے خفیہ راز افشاں کرنے کا الزام تھا۔

لیکن عدالت نے صحافی گاؤ یو کی سزا میں تخفیف کرتے ہوئے سات کے بجائے پانچ برس قید کی سزا کر دی ہے۔

71 سالہ گاؤ کو ایک نچلی عدالت نے گذشتہ اپریل میں سات برس قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف انھوں نے بیجنگ میں بند کمرے میں مقدمہ کی سماعت کے لیے اپیل کی تھی۔

کئي بیرونی ممالک کی حکومتوں اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیموں نے اس فیصلے کی مذمت کی ہے اور اسے سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔

معروف تفتیشی صحافی کو کمیونسٹ پارٹی کے ایک اندرونی دستاویز کو امریکہ میں چینی زبان کی ایک ویب سائٹ، منگجنگ نیوز، کو بھیجنے کا قصورا ٹھہرایا گیا تھا۔ اس دستاویز میں آزاد پریس اور آزاد سول سوسائٹی کے خطرات سے متعلق آگاہ کیا گيا تھا۔

پہلی بار سماعت کے بعد عدالت نے قصوروار ٹھہراتے ہوئے کہا تھا کہ گاؤ یو نے ’اس راز کو غیر قانونی طریقے سے بیرونی لوگوں کو بھیجا۔‘

لیکن گاؤ یو اور منگجنگ نیوز نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ اس راز کو افشاں کرنے کی وہ ذمہ دار ہیں۔

گاؤ یو چین میں اشرافی سطح کی سیاست کے متعلق مستقل لکھتی رہی ہیں اس لیے وہ حکمراں طبقے میں کافی غیر مقبول ہیں

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنگاؤ یو چین میں اشرافی سطح کی سیاست کے متعلق مستقل لکھتی رہی ہیں اس لیے وہ حکمراں طبقے میں کافی غیر مقبول ہیں

بیجنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار سیلیہ ہیٹن کا کہنا ہے کہ عدالت نے سات سے پانچ برس تک سزا کم کرنے کے متعلق کوئی وضاحت پیش نہیں کی۔ یہ بات ضرور ہے کہ لوگ ان کی سزا میں تخفیف کے لیے آواز اٹھاتے رہے تھے۔

گاؤ یو کے بیٹے زاؤ مینگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس تشویش میں مبتلا ہیں کہ ان کی ماں شاید ایک اور اتنی لمبی سزا جیل میں کاٹتے کاٹتے چل نہ بسیں، 1989 سے اب تک یہ ان کی تیسری قید ہوگی۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ چونکہ گاؤ یو چین میں اشرافی سطح کی سیاست کے متعلق مستقل لکھتی رہی ہیں اس لیے وہ حکمراں طبقے میں کافی غیر مقبول ہیں۔

ادھر ان کی سزا کی خبر آنے کے بعد ہی حکومت کے خلاف اور نکتہ چینی شروع ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کے ایک معروف کارکن ہو جیا نے ٹویٹ کیا ’گاؤ یو جیسے معصوم شہری کے لیے سات برس سے پانچ برس کرنے کا کوئی مطلب نہیں، انھیں تو پانچ منٹ کے لیے حراست میں لینا غیر انسانی ہے۔‘