متنازع جزیرے کے قریب امریکی بمبار طیاروں کی پرواز

امریکی جنگی جہاز وں کی یہ پرواز ’جنوبی بحیرۂ جنوبی چین میں معمول کا مشن تھا جو گوام کے ہوائی اڈے سے شروع ہوا اور وہیں پر واپس آ کر ختم ہوا
،تصویر کا کیپشنامریکی جنگی جہاز وں کی یہ پرواز ’جنوبی بحیرۂ جنوبی چین میں معمول کا مشن تھا جو گوام کے ہوائی اڈے سے شروع ہوا اور وہیں پر واپس آ کر ختم ہوا

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں چین نے جو متنازع جزیرے تعمیر کیے ہیں اس کے آس پاس دو امریکی بی 52 بمبار طیاروں نے پرواز کی ہے۔

پینٹاگون کے مطابق چین نے اس سلسلے میں خبردار کیا تھا لیکن اس کے باوجود ان طیاروں کا مشن جاری رہا اور پرواز بغیر کسی حادثے کے مکمل ہو گئی۔

یہ واقعہ امریکی صدر براک اوباما کے فلپائن کے دورے سے عین قبل ہوا ہے جہاں ہونے والی کانفرنس میں چین کے صدر شی جن پنگ بھی شرکت کرنے والے ہیں۔

پینٹاگون کے ترجمان بل اربن نے بتایا کہ امریکی جنگی جہاز وں کی یہ پرواز ’جنوبی بحرہ چین میں معمول کا ایک مشن تھا جو گوام کی ایئر بیس سے شروع ہوا اور وہیں پر واپس آکر ختم ہوا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چینی دعوے کے برعکس بی 52 طیاروں نے سمندری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی۔

بل اربن نے صحافیوں کو بتایا کہ طیاروں کو دوران پرواز دو بار خبردار کیا گیا ’حالانکہ یہ جہاز 15 ناٹیکل میل کے دائرے پاس تک نہیں پھٹکے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا ‎’دونوں طیارے بغیر کسی حادثے کے اپنے مشن پر رواں دواں رہے اوراس دوران ہمہ وقت بین الاقوامی قوانین کے مطابق پرواز کی۔‘

چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک تشویش کا شکار ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنچین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک تشویش کا شکار ہیں

گذشتہ ماہ چینی حکام نے امریکی بحری جہاز کے متنازع جزیرے کے قریب سے گزرنے پر اعتراض کیا تھا اور اسے ’غیر قانونی‘ کہہ کر اس کی مذمت کی تھی۔

چین کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ ’امریکی بحری جہاز کو تنبیہ کی گئی تھی اور یہ عمل چین کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔‘

چینی دعوے کے مطابق گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس لیسن اس علاقے میں داخل ہوا تھا۔

اس جزیرے پر چین اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور امریکی بیان کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تنبیہی بیانات میں اضافہ ہوا تھا۔

چین کی جانب سے جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک تشویش کا شکار ہیں۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے، جبکہ چین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے استحکام کے لیے اُس کے اقدامات جائز ہیں۔