امریکی جہاز کا متنازع جزیرے کے قریب آنا غیر قانونی ہے: چین

امریکہ کے اس اقدام کا کئی مشرقی ایشیائی ممالک جن میں فلپائن اور جاپان شامل ہیں نے خیر مقدم کیا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنامریکہ کے اس اقدام کا کئی مشرقی ایشیائی ممالک جن میں فلپائن اور جاپان شامل ہیں نے خیر مقدم کیا ہے

چینی حکام نے امریکی بحری جہاز کے جنوبی چین میں متنازع جزیرے کے قریب سے گزرنے کو ’غیر قانونی‘ کہہ کر اس کی مذمت کی ہے۔

گائیڈڈ میزائلوں سے لیس امریکی بحری بیڑا یو ایس ایس لیسن چینی دعویٰ کے مطابق 12 ناٹیکل مائل زون میں داخل ہوا۔

اس مصنوعی جزیرے پر جس پر چین اپنی حدود کا دعوی کرتا ہے، آزادانہ آمد و رفت چین کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

چین کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’امریکی بحری جہاز کو تنبیہ کی گئی ہے اور یہ عمل چین کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔‘

وزارت خارجہ کے ترجمان لو کینگ نے مزید کہا کہ ’کسی بھی ملک کی جانب سے اس قسم کے اشتعال انگیز عمل کا چین منہ توڑ جواب دے گا۔ امریکی بحری جہاز کا پیچھا کیا گیا ہے اور اسے جان بوجھ کر متنازع پانیوں میں داخل ہونے پر تنبیہ بھی کی گئی ہے۔‘

دوسری جانب امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان بل اربن کا کہنا تھا کہ ’امریکہ معمول کے مطابق بین الاقوامی قوانین کے تحت جنوبی چین کے سمندر میں آپریشن کر رہا تھا۔‘

امریکہ کے اس اقدام کا کئی مشرقی ایشیائی ممالک نے جن میں فلپائن اور جاپان شامل ہیں خیر مقدم کیا ہے۔

سمندر میں چٹانوں کے سلسلے کو جو آپس میں جڑا ہوا ہے چین نے صفائی کے منصوبے کے تحت سنہ 2013 میں ایک جزیرے کی شکل دے دی تھی۔

چین کا کہنا ہے کہ یہ کام قانونی ہے اور گذشتہ ماہ واشنگٹن میں چینی صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر باراک اوباما کے درمیان ملاقات میں چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین کا ’اس جزیرے پر فوج تعینات‘ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

تاہم امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ چین اس جزیرے پر عسکری تنصیبات نصب کر رہا ہے۔