جان کیری جنوبی بحیرۂ چین میں مزاحمت روکنے کے لیے کوشاں

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری بیجنگ کو جنوبی بحیرۂ چین میں تحکمانہ انداز ترک کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے کوشش کریں گے۔
ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ جان کیری متنازع پانیوں کی بازیابی کے لیے چین کے منصوبے پر اپنے خدشات کا اظہار کریں گے۔
ادھر چین خبردار کر چکا ہے کہ وہ اپنے قانونی حقوق اور مفادات کا دفاع کرے گا۔
خیال رہے کہ چین پورے جنوبی بحیرۂ چین کی ملکیت کا دعوے دار ہے تاہم اس پر برونائی، تائیوان، فلپائن، ویت نام اور ملائشیا بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ ایک ایسے وقت میں دورہ چین کر رہے ہیں جب وہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی موجود ہیں۔
جمعے کو وزیراعظم مودی نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں سرحدی تنازعات کا منصفانہ حل نکالنے پر اتفاق کیا۔
سخت اقدامات
امریکی وزیرِ خارجہ بیجنگ میں صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جان کیری کے دورۂ چین کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ متنازع پانیوں میں چین کی سرگرمیوں پر بات کرنا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ چین 2000 ایکڑ رقبے کی ملکیت کا دعوٰ ی کرتا ہے تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ علاقائی حدود بڑھانے کے دعوے کی اصل وجوہات ابھی واضح نہیں ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین خطرے کی صورت میں سخت اقدامات کرے گا۔
بیجنگ نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شاید امریکہ اپنے فوجی بحری جہازوں اور جیٹ طیاروں کو جنوبی بحیرۂ چین بھیج رہا ہے۔







