سنکیانگ میں سکیورٹی آپریشن، ’28 حملہ آور ہلاک‘

،تصویر کا ذریعہReuters
چین کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اہلکاروں نے 28 افراد کو ہلاک کر دیا ہے جنھیں شمال مغربی صوبے سنکیانگ میں کوئلے کی ایک کان پر حملہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
سنکیانگ کی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق مبینہ ذمہ داروں کے خلاف 56 روزہ آپریشن جاری کیا گیا تھا جس کے دوران ایک شخص کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔
یہ وہ پہلی رپورٹ ہے جو 18 ستمبر کو ’اسکو‘ کے علاقے میں قائم سوگن نامی کوئلے کی کان پر حملہ ہونے کی بعد سامنے آئی ہے۔
کوئلے کی کان پر حملے میں 16 افراد ہلاک کر دیے گئے تھے۔
سنکیانگ میں مسلمان اویغوروں کی بڑی تعداد آباد ہے اور یہاں پولیس سے جھڑپوں اور حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن کے لیے پولیس دہشت گردوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔
کئی علاقوں میں حکومت نے اویغوروں کے چاقو خریدنے پر اور خواتین کے پردے پر پابندی لگائی ہے، اور سڑکوں، شاپنگ مالز اور مارکیٹوں کے قریب سکیورٹی چوکیاں قائم کی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماضی میں طالب علموں نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ انھیں رمضان کے دوران روزہ رکھنے کی اجازت نہیں تھی اور اسی طری سرکاری ملازمین پر بھی پابندیاں رہی ہیں۔







