دھماکوں سے متعدد عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیاں اور کنٹینر تباہ ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنچین کے شمالی شہر تیانجن میں بدھ کی شام کو ہونے والے دو دھماکوں کے بعد لگنے والی آگ پر بھی قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔
،تصویر کا کیپشن دھماکوں سے کم سے کم 50 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔حکام کے مطابق اس واقعہ میں 17 فائر فائیٹرز بھی ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ چین کی منٹسری آف پبلک سکیورٹی کا کہنا ہے کہ ابھی بھی 18 فائر فائیٹرز لاپتہ ہیں۔
،تصویر کا کیپشندھماکوں سے اردگرد کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور پورٹ پر موجود ہزاروں گاڑیاں اور کنٹینر تباہ ہو گئے۔
،تصویر کا کیپشنابھی تک دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ کیا گودام میں موجود کیمیکل کا اخراج دھماکوں کی وجہ بنا۔ابھی تک دھماکوں کا سبب معلوم نہیں ہو سکا اور نہ ہی یہ پتہ چلا ہے کہ کیا گودام میں موجود کیمیکل کا اخراج دھماکوں کی وجہ بنا۔
،تصویر کا کیپشنتیانجن کےفائر چیف زو تیان نے جمعے کو میڈیا کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر 1,020 فائر فائیٹرز اور 140 آگ بجھانے والی گاڑیاں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبندرگاہ پر دھماکے رواہی لوجیسٹکیس نامی کمپنی کے گودام میں ہوئے جو اطلاعات کے مطابق سوڈیم سائنائیڈ جیسے زہریلے کیمیکل کی نقل و حمل کا کام کرتی ہے۔
،تصویر کا کیپشن تیانجن میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سوڈورتھ کا کہنا ہے کہ آگ بجھنے کی صورت میں کیمیکل کنٹینزز کا تجزیہ کرنے کے لیے اور انھیں دھوپ سے بچانے کے لیے محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے گا۔
،تصویر کا کیپشنچین کی کیمونیسٹ پارٹی کے سرکاری روزنامے دی پیپلز ڈیلی کا کہنا ہے کہ امدادی کارکن گودام میں موجود 700 ٹن سوڈیم سئینائیڈ کا ذخیرہ ختم کر رہی ہے اور اس کام کے لیے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اسعتمال کر کے کیمیکل کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔
،تصویر کا کیپشنجائے وقوعہ کے قریب ایک فیکٹری کے سکیورٹی گارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے بھڑکتی ہوئی آگ دیکھی۔ ’اچانک میں نے زوردار آواز سنی۔ میں فوری زمین پر لیٹ گیا لیکن پھر بھی میں زخمی ہو گیا۔‘
،تصویر کا کیپشنچین کے دارالحکومت بیجنگ کے جنوب مشرق میں تیانجن شہر کا شمار اہم صنعتی اور تجارتی بندرگاہوں میں ہوتا ہے اور شہر میں 75 لاکھ افراد مقیم ہیں۔